خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں ’پی ٹی آئی‘ کے لانگ مارچ کے دوران نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایس ایچ او اور ایک گن مین شہید ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں حالات اس وقت انتہائی کشیدہ ہو گئے جب ’نیو کڑپہ‘ کے مقام پر ڈیوٹی پر مامور پولیس پارٹی کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا۔
’بانڈہ داؤد شاہ‘ پولیس معمول کی گشت اور سیکیورٹی فرائض پر مامور تھی کہ گھات لگائے نامعلوم مسلح ملزمان نے اچانک ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
اس اچانک اور وحشیانہ حملے کے نتیجے میں ایس ایچ او داؤد خان اور ان کے گن مین فرہاد کو سنبھلنے کا موقع نہ مل سکا۔ گولیاں لگنے کے باعث دونوں اہلکار شدید زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی جامِ شہادت نوش کر گئے۔
پولیس کا فوری ایکشن اور ناکہ بندی
اس اندوہناک واقعے کی اطلاع ملتے ہی محکمہ پولیس میں کھلبلی مچ گئی۔ ڈی پی او کرک عمران خان صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے فوری طور پر پولیس کی مزید نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ انہوں نے حالات کا بغور جائزہ لیا اور واقعے کے تمام شواہد اکٹھے کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کے فوراً بعد علاقے کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ فرار ہونے والے ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے مضافاتی علاقوں میں ایک وسیع سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے، تاکہ امن و امان کے ان دشمنوں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
سیکیورٹی چیلنجز
یہ افسوسناک واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک بھر میں ’پاکستان تحریک انصاف‘ (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کی وجہ سے سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے۔
خیبر پختونخوا سمیت ملک کے مختلف حصوں میں سیاسی سرگرمیاں اور نقل و حرکت جاری ہے۔ اس دوران امن و امان برقرار رکھنا اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکا ہے۔
مسلح جتھوں کی دراندازی اور پیدا ہونے والے سوالات
کرک میں پیش آنے والے اس واقعے نے ان سنگین خدشات کو مزید تقویت دی ہے جو گزشتہ کئی روز سے تواتر کے ساتھ مختلف حلقوں کی جانب سے ظاہر کیے جا رہے تھے۔
بار بار اس بات کی نشاندہی کی جا رہی تھی کہ ’پی ٹی آئی‘ کے اس لانگ مارچ کی آڑ میں مبینہ طور پر ایسے مسلح افراد بھی شامل ہو چکے ہیں جن کا ایجنڈا محض افراتفری اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانا ہے۔
پرامن سیاسی سرگرمیوں میں آتشیں اسلحے کا استعمال اور ریاستی اداروں کے محافظوں کو یوں نشانہ بنانا ایک انتہائی خطرناک رجحان کی غمازی کرتا ہے۔
یہ صورتحال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ سیاسی ہجوم کو شرپسند عناصر اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
ریاستی عملداری کو چیلنج کرنے والے ان مسلح گروہوں کو اگر بروقت اور سختی سے نہ روکا گیا، تو یہ ملکی سلامتی، سیاسی استحکام اور عوام کے تحفظ کے لیے ایک سنگین اور دیرپا خطرہ بن سکتے ہیں۔