Skip to content
یمن کے لیے بڑی معاشی پیش رفت، آئی ایم ایف نے اہم فیصلہ کر لیا
Home - تازہ ترین - یمن کے لیے بڑی معاشی پیش رفت، آئی ایم ایف نے اہم فیصلہ کر لیا
عالمی مالیاتی فنڈ نے جنگ سے متاثرہ یمن کے لیے 18 ماہ کا نیا پروگرام منظور کرلیا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق پروگرام کا مقصد یمن میں معاشی استحکام پیدا کرنا ہے۔
فنڈ کے مطابق اس پروگرام کے ذریعے یمن کے معاشی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دی جائے گی۔
آئی ایم ایف کے مطابق سٹاف مانیٹرڈ پروگرام کے تحت یمن کو تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی۔
تاہم اس پروگرام میں یمن کے لیے براہ راست مالی امداد شامل نہیں ہے۔
معیشت کی مشکل صورتحال
آئی ایم ایف نے یمن کی موجودہ معاشی صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دیا ہے۔
فنڈ کے مطابق 2026 میں یمن کی مجموعی پیداوار میں ایک اعشاریہ پانچ فیصد کمی ہوئی۔
آئی ایم ایف کے مطابق یمنی معیشت مسلسل پانچ برس سے سکڑ رہی ہے۔
فنڈ نے معاشی مشکلات کے پیش نظر مالیاتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
نئے پروگرام کا مقصد حکومتی مالیات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
اس کے علاوہ ملکی آمدن بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
سرکاری اخراجات
آئی ایم ایف کے مطابق یمن میں سرکاری اخراجات کو زیادہ مؤثر بنانا بھی پروگرام کا اہم مقصد ہے۔
فنڈ کی تکنیکی معاونت سے حکومتی مالیاتی نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
اس پروگرام کے ذریعے معاشی نظم و ضبط بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
تاہم آئی ایم ایف کے پروگرام میں براہ راست مالی وسائل فراہم نہیں کیے جائیں گے۔
لاکھوں افراد بے گھر
اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں حالیہ لڑائی کے باعث دو لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق مجموعی طور پر 52 لاکھ سے زیادہ افراد ملک کے اندر بے گھر ہیں۔
ادارے کے مطابق یمن کی آبادی کا تقریباً دو تہائی حصہ انسانی امداد کا محتاج ہے۔
جنگ اور معاشی بحران نے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔
بے گھری اور انسانی ضروریات کے باعث ملک کو بڑے انسانی بحران کا سامنا ہے۔
غذائی بحران
عالمی ادارہ خوراک کے مطابق یمن میں ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
ادارے کے مطابق 22 لاکھ سے زیادہ پانچ سال سے کم عمر بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔
یہ اعداد و شمار یمن میں انسانی بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
نئے آئی ایم ایف پروگرام کے ذریعے معاشی نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
تاہم براہ راست مالی امداد نہ ہونے کے باعث پروگرام کی نوعیت بنیادی طور پر تکنیکی معاونت تک محدود رہے گی۔
