ایران کا بڑا فیصلہ ،آبنائے ہرمز میں جہازوں سے فیس وصول کرنے کی منظوری دیدی

ایران کا بڑا فیصلہ ،آبنائے ہرمز میں جہازوں سے فیس وصول کرنے کی منظوری دیدی

ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق فیس مختلف سہولیات اور خدمات کی فراہمی کے عوض وصول کی جائے گی۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے فیس مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔ یہ فیس ایرانی ریال میں وصول کی جاسکے گی جبکہ دیگر کرنسیوں میں ادائیگی کا آپشن بھی موجود ہوگا۔

جہازوں سے کن خدمات کے عوض فیس لی جائے گی؟

رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو فراہم کی جانے والی مختلف سہولیات کے عوض فیس وصول کی جائے گی۔ ان خدمات میں ایندھن کی فراہمی، انشورنس، سکیورٹی اور دیگر متعلقہ سہولیات شامل ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :  آبنائے ہرمز کا مستقل انتظام ،امریکا اور ایران براہِ راست رابطہ چینل قائم کرنے پر متفق ہوگئے 

ایرانی حکام کی جانب سے فیس کی حتمی شرح اور اس کے نفاذ کے طریقہ کار سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملانے والی یہ گزرگاہ عالمی توانائی کی تجارت میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق عام حالات میں روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل اس راستے سے منتقل ہوتا ہے جبکہ دنیا کی مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد بھی آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔

اسی وجہ سے آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کا کوئی بھی فیصلہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی بحری تجارت پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرلیا

رپورٹ کے مطابق ایران نے مارچ کے آغاز سے آبنائے ہرمز کو زیادہ تر جہازوں کے لیے مؤثر طور پر بند کر رکھا ہے۔ اس صورتحال کے باعث خطے میں بحری آمدورفت اور توانائی کی عالمی سپلائی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران نے مذاکرات کے لیے خود رابطہ کیا، آبنائے ہرمز جلد کھل جائیگی ، ٹرمپ کا دعوی

اب جہازوں سے فیس وصول کرنے کی منظوری ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق پالیسی میں ایک اور اہم پیش رفت قرار دی جارہی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق فیس ایرانی ریال کے علاوہ کسی بھی دوسری کرنسی میں بھی ادا کی جاسکے گی۔ تاہم اس فیصلے پر عمل درآمد اور فیس کی اصل شرح کے حوالے سے مزید معلومات کا انتظار ہے۔

editor

Related Articles