ایران کے خلاف نئی امریکی پابندیوں کے متوقع اعلان سے قبل عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرمایہ کار واشنگٹن کے نئے اقدامات اور تہران کے ممکنہ ردعمل پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔
پیر کے روز ایشیائی مارکیٹوں میں کاروبار کے آغاز پر برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً ایک فیصد کمی ہوئی جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت بھی نیچے آگئی۔ رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل ایک فیصد کمی کے بعد تقریباً 93.43 ڈالر فی بیرل پر آگیا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 86.14 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
امریکی پابندیوں کے اعلان کا انتظار
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی ایک بڑی وجہ سرمایہ کاروں کی جانب سے نئی امریکی پابندیوں کے اعلان سے قبل محتاط رویہ اختیار کرنا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف نئی اور سخت معاشی پابندیوں کا اعلان کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے یہ اقدامات ایران کی معیشت اور اس کے تجارتی روابط پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیے جانے کی توقع ہے۔
امریکی اقدامات کے حوالے سے عالمی مارکیٹ میں اس خدشے پر بھی نظر رکھی جارہی ہے کہ نئی پابندیوں سے ایران کی تیل برآمدات مزید متاثر ہوسکتی ہیں اور خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
ایران کے ممکنہ ردعمل پر بھی نظر
دوسری جانب ایران نے امریکی پابندیوں کی دھمکی کو مسترد کردیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ نئی پابندیاں ایران کو شکست دینے میں کامیاب نہیں ہوں گی۔
ایران کی جانب سے اس سے قبل یہ عندیہ بھی دیا گیا ہے کہ اگر معاشی دباؤ میں مزید اضافہ کیا گیا تو تہران خطے میں تیل کی برآمدات اور آبنائے ہرمز سے متعلق مزید سخت اقدامات کرسکتا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل مارکیٹ کے لیے اہم
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے ایک مرتبہ پھر مرکزی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ یہ بحری راستہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے اور یہاں آمدورفت میں بڑی رکاوٹ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو تیزی سے متاثر کرسکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا جبکہ امریکی خام تیل بھی پانچ فیصد سے زیادہ مہنگا ہوا۔ پیر کی کمی کو گزشتہ ہفتے کی تیزی کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کمانے اور امریکی پابندیوں کے اعلان سے پہلے پوزیشن تبدیل کرنے سے بھی جوڑا جارہا ہے۔
عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار
ایران پر نئی امریکی پابندیوں اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ اگر نئی پابندیوں کے بعد ایران کی تیل برآمدات یا خطے سے تیل کی ترسیل مزید متاثر ہوئی تو قیمتوں پر دوبارہ اضافے کا دباؤ آسکتا ہے۔
دوسری جانب اگر پابندیوں کے باوجود تیل کی سپلائی متاثر نہ ہوئی اور خطے میں کشیدگی کم ہوئی تو قیمتوں میں مزید کمی کا امکان بھی موجود رہے گا۔
فی الحال عالمی سرمایہ کار امریکی اعلان اور ایران کے ممکنہ ردعمل کے منتظر ہیں اور آنے والے چند دن تیل کی عالمی قیمتوں کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جارہے ہیں۔