آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایشیائی مارکیٹ میں پیر کی صبح ہونے والی تجارت کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کی مارکیٹ میں ایک بار پھر بے یقینی کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت ایک فیصد سے زائد اضافے کے بعد 84 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی ایک فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز کے مستقبل کے حوالے سے صورتحال تاحال واضح نہیں ہوسکی ہے۔ عالمی توانائی کی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے حوالے سے آبنائے ہرمز کی صورتحال کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس آبی گزرگاہ سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار کی ترسیل ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا غیر یقینی صورتحال عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ میں سرمایہ کار خطے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عمان کے ساتھ نئے بحری راستوں کے تعین کے حوالے سے معاہدہ حتمی مراحل میں ہے۔ تاہم ایرانی مؤقف کے مطابق امریکا کو اس پیش رفت کے باوجود دیگر شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
ایران کے بیان کے بعد آبنائے ہرمز کو کھولنے اور بحری آمدورفت معمول پر آنے کے حوالے سے توقعات پیدا ہوئی ہیں تاہم ابھی صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں ہوئی اور مختلف فریقوں کے درمیان مذاکرات اور شرائط پر اتفاق کا عمل اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلی کا اثر صرف توانائی کی عالمی مارکیٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے نتیجے میں مختلف ممالک میں پٹرولیم مصنوعات، ٹرانسپورٹ، بجلی اور دیگر اشیاء کی قیمتیں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔