گھنٹوں انتظار نہیں ! موبائل کی بیٹری ہوگی صرف 3 منٹ میں چارج

گھنٹوں انتظار نہیں ! موبائل کی بیٹری ہوگی صرف 3 منٹ میں چارج

گر اسمارٹ فون کی بیٹری صرف 3 منٹ میں مکمل چارج ہو جائے اور پھر اسے دنوں نہیں بلکہ سالوں تک تبدیل کرنے کی ضرورت نہ پڑے تو کیسا لگے گا؟ یہ خیال اب محض سائنس فکشن نہیں رہا۔

آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے ایسی نئی زنک آئیوڈین بیٹری تیار کی ہے جو تیزی سے چارج ہونے کے ساتھ حیران کن طور پر طویل عرصے تک کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

3 منٹ میں چارج، 60 ہزار بار استعمال

آسٹریلیا کی فلینڈرز یونیورسٹی کے محققین کے مطابق نئی بیٹری کو 60 ہزار بار مکمل چارج کیا جا سکتا ہے، اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ مکمل چارج ہونے میں صرف 3 منٹ لگتے ہیں۔

موجودہ اسمارٹ فونز میں عموماً لیتھیم آئن بیٹریاں استعمال ہوتی ہیں ،  ان میں لیتھیم کوبالٹ آکسائیڈ اور گریفائٹ کی تہیں شامل ہوتی ہیں ،  چارجنگ اور ڈسچارجنگ کے دوران لیتھیم آئنز ایک تہہ سے دوسری تہہ کی جانب حرکت کرتے ہیں، جس سے توانائی پیدا ہوتی ہے۔

تاہم اس عمل کے دوران حرارت بھی پیدا ہوتی ہے،  یہی وجہ ہے کہ فون کو مسلسل چارج کرنے یا زیادہ استعمال کرنے پر اس کا بیک گرم محسوس ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ حرارت بیٹری کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔

نئی زنک آئیوڈین ٹیکنالوجی کیوں اہم ہے؟

فلینڈرز یونیورسٹی کے ماہرین نے اس مسئلے کے لیے زنک آئیوڈین ٹیکنالوجی استعمال کی ہے ، اس بیٹری کی خاص بات صرف تیز چارجنگ نہیں بلکہ اس کی غیر معمولی سائیکل لائف بھی ہے۔

اگر 60 ہزار مکمل چارجنگ سائیکل کو روزانہ ایک سائیکل کے حساب سے دیکھا جائے تو یہ مدت تقریباً 164 سال بنتی ہے،  اس کے مقابلے میں عام اسمارٹ فون بیٹریاں عموماً چند برس میں اپنی اصل صلاحیت کھونا شروع کر دیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : اب روبوٹ انسان سے بھی تیز ! چینی روبوٹ نے دوڑ میں یوسین بولٹ کا ریکارڈ توڑ دیا

مزید اہم بات یہ ہے کہ نئی بیٹری میں آگ لگنے کا خطرہ بھی موجودہ لیتھیم آئن ٹیکنالوجی کے مقابلے میں کم بتایا گیا ہے،  اس سے مستقبل میں محفوظ اور زیادہ پائیدار توانائی ذخیرہ کرنے کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

کیا موبائل فون کی بیٹری اب 3 منٹ میں چارج ہوگی؟

یہ خبر اسمارٹ فون صارفین کے لیے یقیناً دلچسپ ہے، لیکن ابھی فون کا چارجر پھینکنے کا وقت نہیں آیا،  محققین کے مطابق نئی بیٹری فی الحال اسمارٹ فونز کے لیے دستیاب نہیں اور اسے عملی استعمال کے لیے مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

اگر یہ ٹیکنالوجی کامیابی سے کمرشل سطح تک پہنچ جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف موبائل فونز تک محدود نہیں رہیں گے، الیکٹرک گاڑیوں، لیپ ٹاپس اور دیگر قابلِ تجدید توانائی کے نظام میں بھی تیز چارجنگ اور طویل بیٹری لائف ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے،  مستقبل میں چند منٹ کی چارجنگ کے بعد طویل عرصے تک چلنے والی بیٹریاں عام صارف کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن سکتی ہیں۔

editor

Related Articles