عمران خان کی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کے لیے اڈیالہ جیل سے روانہ ہوگئے ہیں ۔ سپریم کورٹ کے حکم پر ضروری قانونی اور انتظامی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد بانی پی ٹی آئی کو اسلام آباد کے نجی ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جہاں ان کا طبی معائنہ اور علاج ہوگا۔ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عمران خان کو 48 گھنٹوں کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے اور ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ کے ذریعے ان کا معائنہ کرانے کی ہدایت کی تھی۔
ذرائع کے مطابق عمران خان کی منتقلی کے لیے اڈیالہ جیل میں ضروری قانونی تقاضے مکمل کیے گئے جس کے بعد انہیں سخت سیکیورٹی میں جیل سے روانہ کیا گیا۔ منتقلی کے دوران سیکیورٹی اداروں نے روٹ کو محفوظ بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں جبکہ اسلام آباد کی جانب جانے والے راستے پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔
شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں بھی عمران خان کی آمد سے قبل سیکیورٹی کلیئرنس اور دیگر انتظامات مکمل کیے گئے۔ ہسپتال کے مخصوص حصے کو سیکیورٹی حصار میں لینے کے ساتھ ساتھ طبی عملے اور دیگر متعلقہ افراد کی نقل و حرکت کو بھی محدود رکھنے کے انتظامات کیے گئے ہیں
عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے قبل اڈیالہ جیل میں ان کی بہن نورین نیازی سمیت اہل خانہ کی ملاقات بھی ہوئی تھی۔ ذرائع کے مطابق نورین نیازی نے عمران خان کو سپریم کورٹ کے ہسپتال منتقلی سے متعلق حکم سے آگاہ کیا اور ان کی صحت کے بارے میں بھی دریافت کیا۔ یہ ملاقات تقریباً 15 منٹ جاری رہی۔
یہ بھی پڑھیں:ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی ناراضی ختم ، بڑا اتفاق ہوگیا
سپریم کورٹ نے عمران خان کے اہل خانہ سے ہفتہ وار ملاقاتوں اور ان کے صاحبزادوں سے ٹیلی فون پر رابطے کی بھی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے ان کے طبی معائنے اور علاج کی نگرانی کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم بھی دیا ہے۔
عمران خان کی منتقلی کے معاملے میں حکومت کی نظرثانی درخواست بھی اہم پیش رفت ہے۔ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے نجی ہسپتال منتقل کرنے کے حکم کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کی تھی تاہم سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے بعض اعتراضات کے باعث درخواست واپس کردی۔ ذرائع کے مطابق اعتراضات دور کرکے درخواست دوبارہ دائر کی جائے گی۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ عمران خان سمیت قیدیوں کو قانون کے مطابق طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں تاہم حکومت نے نجی ہسپتال منتقلی کے عدالتی حکم پر قانونی اعتراضات اٹھائے ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہسپتال کے باہر جمع نہ ہوں اور سیکیورٹی و ہسپتال کے معمولات میں خلل پیدا نہ کریں۔
اب عمران خان کی توجہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ہونے والے طبی معائنے، میڈیکل بورڈ کی رپورٹ اور آئندہ علاج کے طریقہ کار پر مرکوز ہوگی جبکہ سیاسی حلقوں میں حکومت کی نظرثانی درخواست اور سپریم کورٹ کی آئندہ کارروائی بھی خاصی اہمیت اختیار کرگئی ہے

