پمز سانحہ کی تحقیقاتی رپورٹ کا جائزہ لینے کیلئے وزیر اعظم نے آج اجلاس بلا لیا

پمز سانحہ کی تحقیقاتی رپورٹ کا جائزہ لینے کیلئے وزیر اعظم نے آج اجلاس بلا لیا

پمز نرسری آتشزدگی کی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرلی گئی، تحقیقاتی کمیٹی نے مبینہ غفلت کے ذمہ دار 10 افسران و اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی اور ملازمت سے برطرفی کی سفارش کردی۔

ذرائع کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ میں پمز کے انتظامی اور متعلقہ شعبوں میں سنگین غفلت کی نشاندہی کرتے ہوئے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ برطرفی کی سفارش کیے جانے والوں میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر رانا عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر مطاہر شاہ، ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر انیزہ اور جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال درانی سمیت دیگر افسران شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے پمز نرسری میں آتشزدگی کے فوری اسباب، واقعے کی مکمل ٹائم لائن، آگ لگنے کے وقت فائر سیفٹی انتظامات، ہنگامی راستوں اور حفاظتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

تحقیقاتی کمیٹی نے نرسری اور متعلقہ عملے کے بیانات قلمبند کرنے کے ساتھ پمز انتظامیہ اور ڈاکٹروں کے انٹرویوز بھی کیے، جبکہ واقعے کے وقت کا ڈیوٹی روسٹر، نرسری کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور انتظامیہ کی جانب سے آگ لگنے کی وجوہات سے متعلق مؤقف بھی جانچا گیا۔

کمیٹی نے فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122 اور امدادی کارروائیوں میں شامل اہلکاروں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے اور یہ جائزہ لیا کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کو موقع پر پہنچنے اور امدادی کارروائی میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی صارفین ہوشیار، ستمبر کا بجلی بل کتنا بھاری ہوگا ؟ بڑی خبر آ گئی

رپورٹ میں پمز میں فائر سیفٹی اور طبی سہولیات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے انتظامی اصلاحات اور حفاظتی اقدامات کی سفارشات بھی شامل کی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق واقعے کے وقت غیر حاضر یا اپنی ذمہ داریاں درست طور پر ادا نہ کرنے والے متعلقہ عملے کے خلاف بھی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی ہے۔ رپورٹ پر کمیٹی کے تمام ارکان کے دستخط ہیں جبکہ رپورٹ کو عوام کے سامنے لانے کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پمز سانحے کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے لیے لاہور میں اجلاس طلب کرلیا ہے۔ اجلاس میں تحقیقاتی رپورٹ اور کمیٹی کی سفارشات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد ذمہ دار قرار دیے گئے افسران کے خلاف کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں احکامات جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ 26 اگست کو پمز کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد وزیراعظم نے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی۔ کمیٹی کی سربراہی ریٹائرڈ وفاقی سیکرٹری شاہد خان نے کی جبکہ میجر جنرل (ر) ڈاکٹر خورشید اُترا، ڈاکٹر بیرسٹر نبیل احمد اعوان اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اس کے ارکان میں شامل تھے

Qaisar Mirza
editor

Related Articles