عوام کیلئے ایک اور مشکل، مرغی، انڈے اور گوشت مہنگا،قیمتوں کو پر لگ گئے

عوام کیلئے ایک اور مشکل، مرغی، انڈے اور گوشت مہنگا،قیمتوں کو پر لگ گئے

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اشیائے خورونوش کے سرکاری نرخ مقرر کیے جانے کے باوجود لاہور کی پرچون مارکیٹ میں دودھ، دہی، مرغی، چھوٹا اور بڑا گوشت سمیت انڈے سرکاری قیمتوں سے زائد پر فروخت ہونے لگے، جس کے باعث شہریوں کو اضافی رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

شہریوں کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں 170 روپے فی لیٹر کے سرکاری نرخ کے بجائے دودھ 210 سے 230 روپے فی لیٹر تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ اس طرح صارفین سے سرکاری قیمت کے مقابلے میں 40 سے 60 روپے فی لیٹر تک زائد وصول کیے جا رہے ہیں۔

اسی طرح دہی کی سرکاری قیمت 190 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں یہ 240 سے 260 روپے فی کلو تک فروخت ہورہا ہے، جس کے باعث شہریوں کو دہی بھی سرکاری نرخ سے 50 سے 70 روپے تک مہنگا خریدنا پڑ رہا ہے۔

گوشت کی قیمتیں بھی سرکاری نرخ سے تجاوز کرگئیں

دودھ اور دہی کے بعد گوشت کی قیمتوں میں بھی سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد نہ ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ سرکاری نرخ کے مطابق مرغی کا گوشت 483 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم پرچون مارکیٹ میں مرغی کا گوشت 495 سے 500 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق بعض علاقوں میں مرغی کے گوشت کی قیمت سرکاری نرخ سے 15 سے 20 روپے فی کلو تک زیادہ وصول کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی صارفین ہوشیار، ستمبر کا بجلی بل کتنا بھاری ہوگا ؟ بڑی خبر آ گئی

چھوٹا گوشت سب سے زیادہ مہنگا

چھوٹے گوشت کی قیمت میں سرکاری اور مارکیٹ ریٹ کے درمیان سب سے زیادہ فرق سامنے آیا ہے۔ سرکاری نرخ 1600 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود مختلف علاقوں میں چھوٹا گوشت 2400 سے 2800 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔

یعنی صارفین کو سرکاری قیمت کے مقابلے میں چھوٹا گوشت 800 سے 1200 روپے فی کلو تک مہنگا خریدنا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب بڑے گوشت کا سرکاری ریٹ 800 روپے فی کلو مقرر ہے، لیکن مارکیٹ میں صارفین سے 1000 سے 1200 روپے فی کلو تک وصول کیے جا رہے ہیں۔

انڈے بھی سرکاری نرخ سے مہنگے

فارمی انڈوں کی قیمت بھی سرکاری نرخ سے تجاوز کرگئی ہے۔ سرکاری ریٹ کے مطابق ایک درجن انڈوں کی قیمت 241 روپے مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں انڈے 248 سے 250 روپے فی درجن تک فروخت کیے جا رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیاء کی قیمتیں سرکاری نرخ سے مسلسل زیادہ وصول ہونے کے باعث گھریلو بجٹ شدید متاثر ہورہا ہے۔ ان کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے نرخ نامے جاری تو کردیئے جاتے ہیں، تاہم مارکیٹ میں ان پر عملدرآمد نظر نہیں آتا۔

شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخ نامے پر مؤثر عملدرآمد کرایا جائے، دکانداروں کی باقاعدہ چیکنگ کی جائے اور مقررہ قیمت سے زائد وصولی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف ریٹ لسٹ جاری کرنا کافی نہیں، بلکہ مارکیٹ میں سرکاری نرخ پر اشیاء کی دستیابی یقینی بنانا بھی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles