سرکاری اسکولوں کے لیے تاریخی اقدام، ’مصنوعی ذہانت‘ لازمی مضمون قرار، اساتذہ کی خصوصی تربیت کی تیاریاں

سرکاری اسکولوں کے لیے تاریخی اقدام، ’مصنوعی ذہانت‘ لازمی مضمون قرار، اساتذہ کی خصوصی تربیت کی تیاریاں

حکومت پنجاب نے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں میں تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے ’مصنوعی ذہانت‘ (اے آئی) کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔

اس شاندار اقدام کا بنیادی مقصد نئی نسل کو تیزی سے بدلتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا اور مستقبل کی معیشت کے چیلنجز کے لیے تیار کرنا ہے۔

حکومتی منصوبے کے تحت نہ صرف کمپیوٹر لیبز کو جدید بنایا جائے گا بلکہ اساتذہ کی جدید تربیت کا بھی باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے۔

صوبہ پنجاب میں سرکاری سطح پر تعلیم حاصل کرنے والے لاکھوں طلبہ کے لیے ایک انتہائی خوش آئند اور انقلابی خبر سامنے آئی ہے۔

حکومتِ پنجاب نے تعلیمی نصاب میں ایک بڑی تبدیلی لاتے ہوئے ’مصنوعی ذہانت‘ کو نصاب کا لازمی حصہ بنانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ اقدام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ ہمارے طلبہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں۔

جدید ٹیکنالوجی اور عملی مہارتوں کا فروغ

محکمہ تعلیم کے حکام کے مطابق، ‘مصنوعی ذہانت’ کی تعلیم سے طلبہ محض کتابی علم تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ انہیں اس جدید ٹیکنالوجی کے بنیادی تصورات اور اس کے روزمرہ زندگی میں عملی استعمال سے بھی آگاہی حاصل ہوگی۔

اس نئے مضمون کی شمولیت کا اصل ہدف نئی نسل کے اندر ٹیکنالوجی کی بنیادی مہارتیں پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں تنقیدی سوچ (کریٹیکل تھنکنگ) اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے۔

کمپیوٹر لیبز کی اپ گریڈیشن اور انفراسٹرکچر کی فراہمی

اس بڑے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے صوبے بھر میں ڈیجیٹل اصلاحات کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں موجود خستہ حال اور پرانی کمپیوٹر لیبز کو فوری طور پر جدید آلات سے آراستہ کیا جائے گا۔

لیبز میں ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ، نئے کمپیوٹرز اور ’اے آئی‘ سافٹ ویئرز چلانے کے لیے درکار تمام ضروری سہولتیں فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

اساتذہ کی تربیت کا خصوصی اہتمام

کوئی بھی تعلیمی نصاب اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک اسے پڑھانے والے اساتذہ خود اس میں مہارت نہ رکھتے ہوں۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر، حکومت کی جانب سے اساتذہ کی جدید تربیت کا جامع پروگرام بھی ترتیب دیا گیا ہے۔

ماسٹر ٹرینرز کے ذریعے سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو ‘مصنوعی ذہانت’ کے بنیادی اصول، کوڈنگ کے ابتدائی تصورات اور مختلف شعبوں میں اس کے استعمال کے بارے میں مؤثر انداز میں تعلیم دینے کے طریقے سکھائے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:مصنوعی ذہانت دہشتگردوں کیلئے خطرناک معاون بننے لگی؟ نئی تحقیق نے خبردار کردیا

حکومت ‘پنجاب’ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تعلیمی نظام میں اس جدت کو لانے کا واحد مقصد طلبہ کو مستقبل کی ملازمتوں کے لیے پہلے سے تیار کرنا ہے۔

آج کی سرمایہ کاری کل کی ٹیکنالوجی پر مبنی مضبوط معیشت کی بنیاد بنے گی اور اس سے صوبے میں ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ کی کوششوں کو زبردست تقویت ملے گی۔

پاکستان کے سرکاری اسکول طویل عرصے سے روایتی اور فرسودہ تعلیمی نظام کا شکار رہے ہیں، جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم یا تو موجود ہی نہیں تھی اور اگر تھی بھی تو اس کا نصاب دہائیوں پرانا تھا۔

دنیا اس وقت چوتھے صنعتی انقلاب سے گزر رہی ہے جس میں ‘مصنوعی ذہانت’ ہر شعبے پر غلبہ پا رہی ہے۔ ماضی میں ‘پنجاب’ حکومت نے ای روزگار پروگرام اور دانش اسکولوں میں آئی ٹی لیبز جیسے منصوبے شروع کیے تھے۔

لیکن پرائمری یا سیکنڈری سطح کے عام سرکاری سکولوں کے نصاب میں براہِ راست ‘اے آئی’ کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کرنا اپنی نوعیت کا پہلا اور انتہائی جرات مندانہ قدم ہے۔ یہ فیصلہ دراصل عالمی مارکیٹ میں ‘پاکستانی’ نوجوانوں کی کھپت بڑھانے کی ایک طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

حکومت پنجاب کا سرکاری اسکولوں میں ’اے آئی‘ کو لازمی قرار دینا کاغذوں کی حد تک ایک انتہائی شاندار اور وژنری فیصلہ ہے، جو غریب اور امیر کے درمیان ٹیکنالوجی کی خلیج کو کم کر سکتا ہے۔ تاہم اس کا اصل امتحان اس کے عملی نفاذ میں پوشیدہ ہے۔

جنوبی ’پنجاب‘ اور دور دراز کے دیہی علاقوں کے اسکولوں میں جہاں آج بھی پینے کا صاف پانی، بجلی اور بیٹھنے کے لیے فرنیچر ناپید ہے، وہاں جدید کمپیوٹر لیبز کا قیام اور انہیں بلاتعطل چلانا ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔

اس کے علاوہ سرکاری سکولوں میں آئی ٹی اساتذہ کی شدید کمی ہے اور جو موجود ہیں ان کی اپنی استعداد کار جدید ’اے آئی‘ تقاضوں سے کوسوں دور ہے۔

اگر حکومت اس منصوبے کے لیے خطیر بجٹ مختص کرتی ہے، شفافیت کے ساتھ لیبز بناتی ہے اور اساتذہ کی تربیت پر سمجھوتہ نہیں کرتی، تو یہ فیصلہ واقعی ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔

بصورتِ دیگر، یہ بھی ماضی کی طرح ایک ایسا پراجیکٹ بن کر رہ جائے گا جس کے کمپیوٹرز چند سال بعد بند کمروں میں دھول چاٹتے نظر آئیں گے۔ حکومت کو اس کی کامیابی کے لیے ایک کڑے مانیٹرنگ سسٹم کی ضرورت ہوگی۔

Related Articles