دیا میر بھاشا ڈیم سے متعلق سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی سے وابستہ بعض بیرونِ ملک اکاؤنٹس اور بھارتی سوشل میڈیا پروپیگنڈا اکاؤنٹس کے ذریعے گمراہ کن اطلاعات پھیلائے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے حالانکہ منصوبے کی منسوخی سے متعلق گردش کرنے والے دعوے دستیاب حقائق کے برعکس ہیں۔ منصوبے کی منسوخی کے حوالے سے نہ کوئی مستند لیکڈ دستاویز سامنے لائی گئی نہ کوئی باقاعدہ منسوخی کا حکم اور نہ ہی حکومت کی جانب سے ایسا کوئی فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک غیرملکی ویب سائٹ کی جانب سے دیا میر بھاشا ڈیم سے متعلق مبینہ لیکڈ دستاویز کی بنیاد پر ایک بڑی خبر چلائی گئی تاہم اس خبر کے ساتھ مبینہ دستاویز یا کسی سرکاری فیصلے کا اصل ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ متعلقہ حکام سے رابطے کے بعد بھی منصوبے کی منسوخی کے دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
دستیاب سرکاری پاور پلاننگ ریکارڈ کے مطابق دیا میر بھاشا ڈیم اب بھی 4,500 میگاواٹ کا منصوبہ ہے اور 2025-35 کے جنریشن پلان میں شامل ہے۔ منصوبے کے بجلی پیدا کرنے والے یونٹس کو مستقبل کے قومی بجلی نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔
یعنی سوشل میڈیا پر منصوبے کو ختم یا منسوخ کیے جانے کا تاثر دینے والی اطلاعات اور سرکاری پاور پلاننگ ریکارڈ میں واضح فرق موجود ہے۔
حکام کے مطابق منصوبے سے پیدا ہونے والی بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کرنے کے لیے ضروری جنریشن اور ٹرانسمیشن انفرااسٹرکچر کی منصوبہ بندی بھی پاور سیکٹر کے مستقبل کے منصوبوں کا حصہ ہے۔
اس صورتحال میں دیا میر بھاشا ڈیم کو منسوخ کیے جانے کا دعویٰ اس وقت تک درست قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک متعلقہ حکام کی جانب سے باقاعدہ فیصلہ یا نوٹیفکیشن سامنے نہ آئے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبر میں جس مبینہ لیکڈ دستاویز کا حوالہ دیا گیا اس کا اصل متن یا قابلِ تصدیق سرکاری ریکارڈ عوام کے سامنے نہیں لایا گیا۔ اسی طرح منصوبے کی منسوخی کا کوئی باضابطہ حکم بھی پیش نہیں کیا گیا۔
صحافتی اصولوں کے مطابق کسی بڑے قومی منصوبے کی منسوخی جیسی خبر کے لیے محض ذرائع یا مبینہ لیکڈ دستاویز کافی نہیں بلکہ اصل دستاویز متعلقہ وزارت یا ادارے کا باضابطہ فیصلہ اور قابلِ تصدیق شواہد ضروری ہوتے ہیں۔
اس معاملے میں Economic Affairs Division یعنی EAD کا حوالہ بھی اہم ہے۔ EAD کا بنیادی کردار بیرونی مالی معاونت اور بیرونی فنانسنگ سے متعلق معاملات میں ہے۔ کسی منصوبے کی فنانسنگ سے متعلق معاملات اور منصوبے کی منسوخی دو الگ معاملات ہیں، اس لیے صرف EAD سے متعلق کسی پیش رفت کو منصوبے کی منسوخی قرار دینا درست نہیں۔
دیا میر بھاشا ڈیم سے متعلق معاملہ اس بات کی ایک مثال بن گیا ہے کہ کس طرح غیرمصدقہ دعویٰ، مبینہ خفیہ دستاویز اور سنسنی خیز سرخی کو بنیاد بنا کر ایک خبر سوشل میڈیا پر پھیلائی جاسکتی ہے۔ ایک اکاؤنٹ سے دعویٰ سامنے آنے کے بعد دوسرے اکاؤنٹس اسے تصدیق کے بغیر شیئر کرتے ہیں اور چند ہی گھنٹوں میں ایک غیرمصدقہ اطلاع کو ’’بڑی خبر‘‘ کے طور پر پیش کیا جانے لگتا ہے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں سے منسوب معلومات کے برعکس سیاسی یا بیرون ملک موجود سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے کیے گئے دعووں کو اصل سرکاری ریکارڈ سے جانچنا ضروری ہے۔
دیا میر بھاشا ڈیم پاکستان کے بڑے آبی اور بجلی منصوبوں میں شامل ہے اس لیے اس کی منسوخی یا تعطل سے متعلق غلط اطلاعات عوامی سطح پر بے یقینی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ توانائی، پانی اور معاشی منصوبہ بندی کے حوالے سے بھی غلط تاثر پیدا کرسکتی ہیں۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق 4,500 میگاواٹ کا دیا میر بھاشا ڈیم قومی بجلی پیداوار کے مستقبل کے پلان میں شامل ہے اور اس کی بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی موجود ہے لہٰذا منصوبے کی منسوخی سے متعلق دعوے کو مستند سرکاری ثبوت کے بغیر خبر کے طور پر آگے بڑھانا گمراہ کن ہے