پاکستان کے بڑے شہروں بشمول کراچی، کوہاٹ اور گلگت بلتستان کے عوام نے ملک میں عوامی محرومیوں کے خاتمے، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور انتظامی بہتری کے لیے نئے صوبوں اور چھوٹے یونٹس کے قیام کا کھل کر مطالبہ کر دیا ہے۔
’آزاد ڈیجیٹل‘کے ایک حالیہ عوامی سروے کے مطابق شہریوں کی اکثریت کا ماننا ہے کہ ملک میں نئے صوبے بننا ناگزیر ہو چکے ہیں اور موجودہ مسائل کا واحد حل بھی یہی ہے۔
مقامی وسائل کا استعمال اور نظام میں بہتری
سروے کے دوران کوہاٹ اور گلگت بلتستان کے شہریوں نے نئے صوبوں کے قیام کی بھرپور حمایت کی۔ کوہاٹ کے شہریوں کا مؤقف ہے کہ صوبہ بننے سے مقامی سطح پر عوام کو بے پناہ فوائد حاصل ہوں گے، مقامی وسائل بہتر انداز میں استعمال ہو سکیں گے اور گیس جیسے دیرینہ مسائل کا خاتمہ ہوگا۔
شہریوں کے مطابق صوبے بننے سے ایم پی اے کا حلقہ چھوٹا ہوگا جس سے وہ اپنے علاقے پر زیادہ بہتر توجہ دے سکے گا۔
اس اقدام سے نظام میں بہتری آئے گی، وسائل برابری کی بنیاد پر تقسیم ہوں گے، جس کا فائدہ بالآخر سندھ، پنجاب اور دیگر صوبوں کے عوام کو مقامی سطح پر ہی حاصل ہوگا۔‘
کراچی کی خستہ حالی اور سندھ حکومت پر کڑی تنقید
آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کراچی کے شہریوں نے موجودہ سندھ حکومت بالخصوص پیپلز پارٹی کی کارکردگی اور نئے صوبوں کی مخالفت پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ گزشتہ 18 سالوں سے شہر میں ٹریفک کا مسئلہ جوں کا توں ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کی حکومت عوام کو ڈیلیور کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
گلیوں میں کھڑے سیوریج کے پانی اور ٹوٹی سڑکوں کی نشاندہی کرتے ہوئے شہریوں نے کہا کہ حکومت فنڈز کا رونا روتی ہے مگر منظور ہونے والا بجٹ کہاں جاتا ہے، کسی کو معلوم نہیں۔
شہریوں نے پیپلز پارٹی کی جانب سے نئے صوبوں کی مخالفت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ نئے صوبوں کی مخالفت میں پیپلز پارٹی کا اپنا مفاد چھپا ہے، انہیں محض یہ خوف ہے کہ کہیں کراچی ان کے ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ ‘
لاڑکانہ سے آئے کسی شخص کو ہمارے دکھوں سے کیا فرق پڑتا ہے؟ ہمارا اپنا مقامی حکمران ہوگا تو ہم اس سے شکایت بھی کر سکیں گے اور جواب طلبی بھی ممکن ہوگی۔‘
کراچی کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور میئر سے مطالبات
شہریوں نے شہر کے مختلف علاقوں کی تباہ حالی کا خصوصی ذکر کیا، جن میں یونیورسٹی روڈ کا اکھڑ جانا اور گودھرا سے لے کر اللہ والی تک سڑک کا ناقابلِ استعمال ہونا شامل ہے۔
شہریوں کے مطابق اس سڑک پر گاڑی تو دور پیدل چلنا بھی محال ہو چکا ہے، جبکہ 6 سال سے بچھائی جانے والی گٹر لائن کا کام تاحال نامکمل ہے۔
شہریوں نے میئر کراچی سے اپیل کی کہ وہ کھڑے پانی سے پھیلنے والی بیماریوں اور ان مسائل کی جانب فوری توجہ دیں۔
شہریوں نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ پیپلز پارٹی نے اپنی نااہلی کے باعث روشنیوں کے شہر کراچی کو کھڈوں کا شہر اور ایک موہنجوداڑو قدرت نے دیا اور دوسرا ’موہنجوداڑو‘ پیپلز پارٹی کی حکومت نے بنا دیا ہے۔
آبادی میں تیزی سے اضافے کے پیشِ نظر عوام کا پرزور مطالبہ ہے کہ کراچی کو الگ صوبہ بنا کر یا چھوٹے یونٹس قائم کر کے مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، کیونکہ نئے صوبوں کا قیام ہی اب پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کی واحد ضمانت ہے۔