ندا یاسر کا مارننگ شو ایک بار پھر تنازع کا شکار، صارفین نے بڑا مطالبہ کردیا

ندا یاسر کا مارننگ شو ایک بار پھر تنازع کا شکار، صارفین نے بڑا مطالبہ کردیا

پاکستان کی معروف ٹی وی میزبان ندا یاسر گزشتہ تقریباً 19 برس سے مارننگ شو ’گڈ مارننگ پاکستان‘ کی میزبانی کر رہی ہیں۔ انسٹاگرام پر ان کے 26 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں اور ان کا پروگرام شوبز شخصیات کے انٹرویوز، ڈراموں کی تشہیر اور مختلف موضوعات پر گفتگو کے باعث خاصی مقبولیت رکھتا ہے۔

تاہم پروگرام میں بعض اوقات ایسے غیر معمولی موضوعات اور سوالات بھی زیر بحث آتے ہیں جو بعد میں سوشل میڈیا پر تنازع کی وجہ بن جاتے ہیں۔ سابق جوڑوں کو ایک ساتھ بلانے سے لے کر معروف فنکاروں سے متنازع سوالات کرنے تک، پروگرام ماضی میں بھی تنقید کی زد میں آتا رہا ہے۔

حالیہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب رمضان کے دوران ندا یاسر نے فریال گوہر اور جمال شاہ کو ایک ساتھ پروگرام میں مدعو کیا۔ اس موقع پر دونوں سے ان کے تعلق اور ذاتی زندگی سے متعلق گفتگو کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:انوشکا سے پہلے ویرات کوہلی کس بالی ووڈ اداکارہ کو پسند کرتے تھے

چند ماہ بعد فریال گوہر ایک بار پھر پروگرام میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے جمال شاہ پر گھریلو تشدد کے الزامات عائد کیے۔ اس معاملے نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی اور ندا یاسر کے پروگرام کے انداز پر بھی سوالات اٹھائے جانے لگے۔

جمال شاہ نے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ قبل اسی چینل نے انہیں اور فریال گوہر کو ایک ساتھ پروگرام میں بلایا تھا۔ ان کے مطابق اس وقت فریال کا رویہ مثبت تھا اور ان کی جانب سے کسی شکایت کا اظہار نہیں کیا گیا تھا۔

جمال شاہ نے مزید دعویٰ کیا کہ چینل نے انہیں اور فریال گوہر کی زندگی پر بائیوپک بنانے کی پیشکش بھی کی تھی، جسے انہوں نے مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ حالیہ انٹرویو کسی ممکنہ ڈرامے کے لیے پہلے سے طے شدہ انداز میں کیا گیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:جن زی کی آواز سلیمان سہیل اچانک لاپتا، سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی غائب

دوسری جانب اس تنازع کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ندا یاسر اور ’گڈ مارننگ پاکستان‘ پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔ بعض صارفین نے پروگرام پر پابندی کا مطالبہ کیا، جبکہ کچھ نے الزام عائد کیا کہ شو میں ریٹنگز حاصل کرنے کے لیے تنازعات کو زیادہ نمایاں کیا جاتا ہے۔

کچھ ناظرین نے فریال گوہر سے کیے گئے سوالات کو بھی مبینہ طور پر اس انداز کا قرار دیا جس سے مخصوص جوابات حاصل کرنے کی کوشش محسوس ہوتی تھی۔ سوشل میڈیا پر بعض صارفین ندا یاسر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

تاہم اس پورے معاملے میں سامنے آنے والے الزامات اور دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ تنازع کے بعد اب سوشل میڈیا پر ناظرین کی جانب سے ندا یاسر اور ان کے پروگرام کے خلاف ردعمل مسلسل سامنے آرہا ہے۔

editor

Related Articles