پاکستانی نوجوان ڈیجیٹل کریئیٹر اور سماجی کارکن سلیمان سہیل کی گمشدگی نے سوشل میڈیا پر تشویش کی لہر پیدا کردی، جبکہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی غائب ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
سلیمان سہیل سوشل میڈیا پر انسانی حقوق، ناانصافی اور معاشرتی مسائل پر آواز اٹھانے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ وہ اپنے پلیٹ فارم پاکستان یوتھ موومنٹ کے ذریعے نوجوانوں کو سیاسی اور سماجی مسائل پر بات کرنے کی ترغیب دیتے رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سلیمان سہیل ملک کی موجودہ صورتحال پر مسلسل ویڈیوز بنا کر اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے، تاہم وہ اچانک منظر عام سے غائب ہوگئے۔ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی مبینہ طور پر بند یا ہٹا دیے گئے، جس کے بعد آن لائن پلیٹ فارمز پر ان کی موجودگی ختم ہوگئی۔ بعض رپورٹس میں ان کے والد کے بھی لاپتا ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
سلیمان سہیل کی گمشدگی کے بعد متعدد سوشل میڈیا انفلوئنسرز، اینکرز اور ڈیجیٹل کریئیٹرز نے ان کے لیے آواز اٹھانا شروع کردی ہے۔ ڈیجیٹل کریئیٹر ذوہیب اسپیکس نے دعویٰ کیا کہ سلیمان سہیل کو خاموش کرانے کی کوشش کی گئی اور وہ شدید دباؤ کا سامنا کر رہے تھے۔
دوسری جانب کچھ سوشل میڈیا صارفین اور کریئیٹرز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں مبینہ طور پر حکام نے حراست میں لیا یا اغوا کیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آسکی۔ معروف اینکر اقرار الحسن نے بھی سلیمان سہیل کی گمشدگی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن جن زی کی نمائندگی کرنے والے سلیمان سہیل کی گمشدگی کی مذمت کرتے ہیں۔
سلیمان سہیل کے بارے میں سامنے آنے والے مختلف دعوؤں کی تاحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ ان کی گمشدگی اور موجودہ صورتحال سے متعلق کوئی واضح سرکاری مؤقف بھی سامنے نہیں آیا۔