پاکستان ہاکی کے سنہری دور کی واپسی، جونیئر ایشیا کپ میں شاہینوں نے مخالف ٹیم پر15 گول داغ دیے

پاکستان ہاکی کے سنہری دور کی واپسی، جونیئر ایشیا کپ میں شاہینوں نے مخالف ٹیم پر15 گول داغ دیے

چین میں شروع ہونے والے جونیئر ایشیا کپ ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستان مینز ٹیم نے پول بی کے اپنے پہلے میچ میں قازقستان کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 0-15 سے آؤٹ کلاس کر دیا، جبکہ ویمنز ٹیم نے بھی شاندار کامیابی حاصل کی۔

چین کے سرسبز میدانوں میں جاری جونیئر ایشیا کپ ہاکی ٹورنامنٹ کا آغاز پاکستان کے لیے انتہائی شاندار رہا ہے۔

پول بی کے انتہائی اہم میچ میں پاکستانی جونیئر ٹیم نے حریف قازقستان کو کھیل کے ہر شعبے میں دباؤ میں رکھتے ہوئے صفر کے مقابلے میں 15 گول سے شکست دی۔

قومی کھلاڑیوں نے میچ کے پہلے منٹ سے ہی جارحانہ حکمت عملی اپنائی اور حریف دفاع کو سنبھلنے کا کوئی موقع نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے 16 سال بعد ہاکی ورلڈکپ کا میچ جیت لی

پاکستان کی جانب سے فارورڈ لائن کے کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ عبدالسامی اور رانا ولید نے عمدہ فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4، 4 گول اسکور کیے، جبکہ ندیم خان نے بھی شاندار مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2 گول اپنے نام کیے۔

ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں نے بھی بہترین کوآرڈینیشن کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی اسکور کو 15 تک پہنچایا اور میچ پر مکمل گرفت رکھی۔

ویمنز ٹیم کی شاندار کامیابی

دوسری جانب، خواتین کے چیلنجر پول میں بھی پاکستان ویمنز ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہانگ کانگ چائنا کو 0-2 سے شکست دی۔

پاکستان کی اس اہم فتح میں شارقہ نے کلیدی کردار ادا کیا جنہوں نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے دونوں گول اسکور کیے اور ٹیم کی فتح کو یقینی بنایا۔

جونیئر ایشیا کپ ہاکی ٹورنامنٹ روایتی طور پر ایشیا کی نوجوان ہاکی صلاحیتوں کو نکھارنے اور بین الاقوامی سطح پر ابھارنے کا سب سے بڑا پلیٹ فارم رہا ہے۔

ماضی میں پاکستان نے جونیئر سطح پر کئی بار عالمی سطح پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم گزشتہ کچھ برسوں میں قومی کھیل کو مالی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:سلطان جوہر ہاکی کپ : پاکستان اور بھارت کا سنسنی خیز میچ 3-3 گول سے برابر

اس پس منظر میں موجودہ ٹورنامنٹ کے پہلے ہی میچ میں اتنے بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کرنا نہ صرف کھلاڑیوں کا مورال بلند کرے گا بلکہ ملک میں ہاکی کے احیاء کی امیدوں کو بھی تازہ کرے گا۔

اگر اس میچ کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو 0-15 کی یہ فتح بظاہر ایک نسبتاً کمزور حریف کے خلاف ہے، لیکن اس سے ٹیم کی فزیکل فٹنس، اسٹرائیک ریٹ اور بال پوزیشن کی عمدہ صلاحیت کھل کر سامنے آتی ہے۔

عبدالسامی اور رانا ولید جیسے نوجوان کھلاڑیوں کی جارحانہ اسکورنگ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کی اگلی پود بڑے ٹورنامنٹس کے لیے پوری طرح تیار ہو رہی ہے۔

تاہم، اصل امتحان روایتی حریفوں اور مضبوط ایشیائی ٹیموں کے خلاف ہوگا۔ اگر ٹیم اس وننگ مومینٹم کو برقرار رکھتی ہے اور دفاعی خامیوں پر مزید کام کرتی ہے، تو پاکستان کے لیے اس ٹورنامنٹ میں ٹائٹل جیتنا زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔

Related Articles