وزیراعلیٰ کی ’ای بائیکس سکیم‘ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے لاہور ٹریفک پولیس نے طلبہ و طالبات کے لیے 5 نئے سکوٹی ڈرائیونگ سکولز اور لائسنس سینٹرز میں الگ کاؤنٹرز قائم کر دیے ہیں۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد نوجوانوں بالخصوص طالبات کو مفت ڈرائیونگ سکھا کر انہیں سفری سہولیات میں خود مختار اور عملی زندگی میں بااعتماد بنانا ہے۔
آسان شرائط اور ٹریننگ سینٹرز کا قیام
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کی خصوصی ہدایت پر شہر کے تمام لائسنس سینٹرز میں سکوٹی چلانے والوں کے لیے الگ کاؤنٹرز مختص کر دیے گئے ہیں۔
اب ’ای بائیک سکیم‘ میں شامل طلبہ و طالبات کو لائسنس کے حصول کے لیے کسی طویل کاغذی کارروائی کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ محض اپنا قومی شناختی کارڈ پیش کر کے یہ سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔
طالب علموں کو محفوظ ڈرائیونگ کی عملی تربیت فراہم کرنے کے لیے آبشار ڈرائیونگ سکول، لبرٹی خدمت مرکز، اور گریٹر اقبال پارک میں ٹریننگ سکول قائم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹریفک پولیس لائنز مناواں اور ایل او ایس فیروزپور روڈ پر بھی جدید سکوٹی سکولز فعال کر دیے گئے ہیں۔
خواتین کے لیے ’ویمن ٹو ویمن‘ سروس
ایل او ایس فیروزپور روڈ پر قائم کیے گئے سکوٹی اسکول کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہاں صرف خواتین کو مفت تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔
پورے شہر میں خواتین کو سکوٹی سکھانے کے لیے 5 اور گاڑی چلانے کی تربیت کے لیے 12 ڈرائیونگ سکولز قائم کیے گئے ہیں۔ خواتین کے پردے اور تحفظ کے پیشِ نظر ان مراکز میں ’ویمن ٹو ویمن‘ سروس یعنی خواتین انسٹرکٹرز ہی خدمات انجام دے رہی ہیں تاکہ طالبات بنا کسی ہچکچاہٹ کے سیکھ سکیں۔
ہزاروں خواتین کی کامیاب تربیت اور خود مختاری
اعداد و شمار کے مطابق، لاہور ٹریفک پولیس کے ان ڈرائیونگ سکولز سے اب تک 8220 خواتین کار ڈرائیونگ، جبکہ 7290 خواتین سکوٹی چلانے کی مفت تربیت حاصل کر چکی ہیں۔
صرف رواں سال کے دوران 1629 خواتین نے ان سکولز سے کامیابی کے ساتھ ٹریننگ مکمل کی۔ سی ٹی او لاہور کا کہنا ہے کہ پولیس کے ڈرائیونگ سکولز سے ہزاروں خواتین بااعتماد ڈرائیور بن چکی ہیں اور انہیں ڈرائیونگ کی تربیت دے کر خودمختار اور بااختیار بنانے کا یہ سلسلہ بلا تعطل جاری ہے۔
حکومت کی جانب سے حال ہی میں طلبہ و طالبات کے لیے ’ای بائیکس سکیم‘ متعارف کرائی گئی تھی تاکہ مہنگائی اور ٹرانسپورٹ کے مسائل سے دوچار طالبعلموں کو سستی اور ماحول دوست سواری فراہم کی جا سکے۔ تاہم اس اسکیم کے اعلان کے بعد ایک بڑا چیلنج طلبہ کی ٹریفک قوانین سے ناواقفیت اور ڈرائیونگ کی عدم تربیت تھا۔
اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے لاہور ٹریفک پولیس نے ہنگامی بنیادوں پر یہ سکولز اور کاؤنٹرز قائم کیے ہیں تاکہ ای بائیکس سڑکوں پر آنے سے قبل نوجوان محفوظ ڈرائیونگ کے اصولوں سے پوری طرح آگاہ ہو سکیں اور حادثات کی شرح کو کم سے کم کیا جا سکے۔
سی ٹی او لاہور عبدالرحیم شیرازی کا یہ مؤقف بالکل درست اور حقیقت پسندانہ ہے کہ ’خواتین بااختیار ہوں گی تو معاشرے میں واضح تبدیلی آئے گی‘۔
ہمارے سماج میں پبلک ٹرانسپورٹ کے مسائل اور ہراسانی کے خوف کے باعث اکثر طالبات کی تعلیم یا خواتین کا روزگار بری طرح متاثر ہوتا ہے۔
انہیں مفت ڈرائیونگ سکھانا اور لائسنس کے لیے الگ کاؤنٹرز کی سہولت دینا محض ایک ٹریفک مینجمنٹ کا قدم نہیں، بلکہ سماجی اور معاشی ترقی کی جانب ایک بڑی جست ہے۔ یہ اقدام نہ صرف خواتین میں خود اعتمادی پیدا کرے گا بلکہ انہیں سفری آزادی دے کر ملکی ترقی میں برابری کی سطح پر حصہ لینے کے قابل بنائے گا۔
حکومت اور ٹریفک پولیس کا یہ اشتراک یقیناً ایک قابلِ ستائش ماڈل ہے جسے دیگر صوبوں اور شہروں میں بھی فوری طور پر اپنایا جانا چاہیے۔