فیصل آباد : رقم کے عوض طلبہ کے نمبرز، گریڈز اور حاضری بدلنے کا انکشاف، 2 ملزمان گرفتار

فیصل آباد : رقم  کے عوض طلبہ کے نمبرز، گریڈز اور حاضری بدلنے کا انکشاف، 2 ملزمان گرفتار

این سی سی آئی اے فیصل آباد نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے طلبہ کے نمبروں، گریڈز اور حاضری کے ریکارڈ میں رقم کے عوض غیر قانونی ردوبدل کرنے والے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

 ڈائریکٹر این سی سی آئی اے پنجاب حسام بن اقبال کی خصوصی ہدایات پر سائبر جرائم، مالی فراڈ اور تعلیمی اداروں کے آن لائن نظام کے غیر قانونی استعمال کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

یونیورسٹی کے آڈٹ ریکارڈ کی تکنیکی جانچ کے دوران 33 طلبہ کے تعلیمی ریکارڈ میں مجموعی طور پر 72 تبدیلیاں سامنے آئیں، جبکہ کارروائی کے دوران ملزمان سے دو موبائل فونز اور ایک Dell لیپ ٹاپ برآمد کیا گیا۔

این سی سی آئی اے حکام کے مطابق کارروائی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے ڈپٹی رجسٹرار رانا تنویر علی کی شکایت پر عمل میں لائی گئی۔

تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ تعلیمی ریکارڈ میں کی گئی تبدیلیاں یونیورسٹی کے 12 مختلف تعلیمی پروگرامز سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ریکارڈ میں سامنے آئیں۔ ان پروگرامز میں BS Mathematics، BBA، BS Electrical Engineering، BS Environmental Science، BS Botany، BS (Hons.) Medical Laboratory Technology، BS Mass Communication، BS (Hons.) Applied Chemistry، BS Sociology، BS Chemistry، BS International Relations اور BS English (Language & Literature) شامل ہیں۔

تحقیقات میں یہ بات  سامنے آئی کہ ملزمان طلبہ سے فی مضمون تقریباً 15 ہزار روپے وصول کرتے تھے اور رقم کے عوض ان کے نمبروں اور گریڈز میں تبدیلی کے ساتھ حاضری کے ریکارڈ میں بھی ردوبدل کیا جاتا تھا ، یونیورسٹی کے آڈٹ ریکارڈ میں بعض طلبہ کے ایک سے زائد مضامین کے نمبروں اور گریڈز میں تبدیلیاں بھی سامنے آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :محکمانہ احتساب: این سی سی آئی اے میں 3 سب انسپکٹرز ، اے ایس آئی سمیت 4 اہلکار ملازمت سے فارغ

تفتیش کے دوران طلبہ کی جانب سے مختلف اوقات میں ادا کی جانے والی رقوم کا سراغ ایک جاز کیش اکاؤنٹ تک پہنچا، حکام کے مطابق رقم اس اکاؤنٹ میں وصول ہونے کے بعد مختلف درمیانی اور کاروباری/مرچنٹ اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کی جاتی اور بعد ازاں نقد رقم کی صورت میں نکلوائی جاتی تھی اور متعدد طلبہ کی ادائیگیوں کو یونیورسٹی کے متعلقہ گریڈ الٹریشن آڈٹ ریکارڈ کے ساتھ بھی کراس ویری فائی کیا گیا۔

گرفتار ملزم احسن شفیق کا کردار رقم وصول کرنے، اسے مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کرنے اور کیش آؤٹ کروانے کے حوالے سے سامنے آیا، جبکہ دوسرے ملزم نعمان جعفر، جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کا سابق طالب علم ہے، کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ ویب ڈویلپمنٹ اور آن لائن سسٹمز سے متعلق تکنیکی مہارت رکھتا ہے۔ تحقیقات کے مطابق نعمان جعفر نے جی سی یو فیصل آباد  کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹس  کے آن لائن پورٹل تک غیر مجاز رسائی حاصل کرکے طلبہ کے تعلیمی ریکارڈ میں تبدیلیاں کیں۔

این سی سی آئی اے حکام کے مطابق نعمان جعفر سے برآمد ہونے والے Dell لیپ ٹاپ کی ابتدائی تکنیکی جانچ کے دوران یونیورسٹی کے HOD آن لائن پورٹل hod.gcuf.edu.pk تک رسائی کے اہم شواہد سامنے آئے، جبکہ لیپ ٹاپ میں متعلقہ پورٹل تک رسائی کے لیے استعمال ہونے والی محفوظ شدہ لاگ اِن تفصیلات/credentials بھی پائی گئیں۔

حکام کے مطابق یونیورسٹی کے آن لائن نظام میں موجود ممکنہ تکنیکی کمزوری کو استعمال کرتے ہوئے طلبہ کے ریکارڈ میں غیر مجاز تبدیلیاں کی جاتی تھیں ،  برآمد شدہ موبائل فونز، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کا تفصیلی فرانزک تجزیہ جاری ہے جبکہ  تفتیش کا دائرہ بھی وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ مزید متاثرہ طلبہ، وصول کی گئی مجموعی رقم اور اس کارروائی میں ملوث دیگر افراد یا سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔

این سی سی آئی اے فیصل آباد نے دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 113/2026 درج کرکے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔ مقدمے میں Prevention of Electronic Crimes Act (PECA) اور تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات شامل کی گئی ہیں۔ کیس کی تفتیش سب انسپکٹر اسد اقبال، این سی سی آئی اے فیصل آباد کر رہے ہیں۔

اس حوالے سے ڈائریکٹر این سی سی آئی اے پنجاب حسام بن اقبال نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کے آن لائن نظام میں غیر قانونی مداخلت، طلبہ کے تعلیمی ریکارڈ میں ردوبدل اور رقم کے عوض میرٹ کو متاثر کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے تعلیمی مستقبل سے کھیلنے اور آن لائن نظام کا غلط استعمال کرکے غیر قانونی فائدہ حاصل کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

editor

Related Articles