امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی متنازع نام بدلنے کی مہم کے تحت اب امریکی ریاست نیو میکسیکو کا نام تبدیل کر کے ’نیو امریکا‘ رکھنے کی تجویز دی ہے جسے ریاستی گورنر نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اس سے قبل وہ کینیڈا کے ساتھ تجارتی تنازع کے دوران ’لیک اونٹاریو‘ کو ’لیک امریکا‘ کا نام دینے کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جغرافیائی مقامات کے نام تبدیل کرنے کی مہم کو اتوار کے روز ایک نیا اور غیر متوقع ہدف اس وقت مل گیا جب انہوں نے ریاست نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی۔
سوشل میڈیا پر صدر ٹرمپ کا نیا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ بہت سے لوگوں نے مشورہ دیا ہے کہ نیو میکسیکو کا نام بدل کر ’نیو امریکا‘ رکھ دیا جائے۔
اسی دوران وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی ایک تصویر شیئر کی گئی جس میں نیو میکسیکو کے نام سے ’میکسیکو‘ کے حصے کو کاٹ کر اس کی جگہ ’امریکا‘ لکھا گیا تھا۔ بعض امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ خیال انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ایک افواہ سے شروع ہوا۔
ریاستی گورنر کا سخت ردعمل اور تجویز مسترد کرنے کا اعلان
نیو میکسیکو کی گورنر مشیل لوجان گریشام نے امریکی صدر کی اس تجویز کو فوری طور پر مسترد کر دیا ہے۔ فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ نام کی تبدیلی کا یہ معاملہ کسی بھی قسم کی بحث کا متقاضی نہیں ہے، کیونکہ یہ نام امریکا کے وجود میں آنے سے بھی پہلے ہمارا تھا۔
انہوں نے امریکی صدر پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دراصل ان غیر ضروری بیانات کے ذریعے عوام کی توجہ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں جیسے سنگین ملکی مسائل سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
جغرافیائی مقامات کے نام بدلنے کا متنازع سلسلہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2025 میں دوبارہ وائٹ ہاؤس کا چارج سنبھالنے کے بعد سے ہی مقامات کے نام تبدیل کرنے کا ایک انوکھا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
اپنے عہدے کے پہلے ہی دن انہوں نے ’خلیج میکسیکو‘ کا نام بدل کر ’خلیج امریکا‘ رکھنے کا اعلان کیا تھا، جسے پڑوسی ملک میکسیکو کی حکومت نے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔
اسی طرح کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی جنگ کے عین وسط میں انہوں نے چند روز قبل ’لیک اونٹاریو‘ کو ’لیک امریکا‘ قرار دینے کے احکامات جاری کیے، جسے کینیڈین حکام نے بھی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
گزشتہ ہفتے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران انہوں نے ’آبنائے ہرمز‘ کا نام بدل کر ’ٹرمپ سٹریٹ‘ رکھنے کی تجویز دی تھی، تاہم چند گھنٹوں بعد ہی اس بیان سے پیچھے ہٹتے ہوئے انہوں نے تاثر دیا کہ وہ اس منصوبے کے بارے میں سنجیدہ نہیں تھے۔
پاپولزم اور توجہ ہٹانے کی سیاسی حکمت عملی
اس پوری صورتحال پر ایک سیاسی اور صحافتی تجزیہ کار کے طور پر نظر ڈالی جائے تو ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ مہم محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی پاپولسٹ حکمت عملی محسوس ہوتی ہے۔
تاریخی جغرافیائی ناموں کو تبدیل کرنے کی ان تجاویز کا مقصد بظاہر انتہائی دائیں بازو کے ووٹرز کے جذبات کو ابھارنا اور قوم پرستی کے بیانیے کو مزید ہوا دینا ہے۔