نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی ( این سی سی آئی اے) پنجاب میں 3 سب انسپکٹرز اور ایک اے ایس آئی سمیت 4 اہلکاروں کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر این سی سی آئی اے پنجاب محمد علی وسیم کی ہدایت پر اہلکاروں کے محکمانہ مسائل، شکایات اور کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اردل روم کا انعقاد کیا گیا، جس میں مجموعی طور پر 28 اہلکاروں کے کیسز کی سماعت کی گئی۔
اردل روم میں 13 سب انسپکٹرز، 4 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز (اے ایس آئی)، 2 ہیڈ کانسٹیبلز، 7 کانسٹیبلز، ایک ڈرائیور اور ایک ٹیکنیکل خاتون اہلکار پیش ہوئے۔
اردل روم کا مقصد محکمانہ امور میں بہتری لانا، اہلکاروں سے متعلق شکایات کا ازالہ کرنا، نظم و ضبط برقرار رکھنا اور عوام الناس کو بہتر سروسز کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
سماعت کے دوران مختلف اہلکاروں کے خلاف محکمانہ معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ، شواہد اور ریکارڈ کی روشنی میں3 سب انسپکٹرز اور ایک اے ایس آئی کو ڈسمس فرام سروس کر دیا گیا، جبکہ 4 اہلکاروں کو سخت سزائیں سنائی گئیں۔
اسی طرح 4 افسران کی ایک، ایک سال کی انکریمنٹ روکنے کے احکامات جاری کیے گئے، دیگر اہلکاروں کے معاملات میں رعایت دیتے ہوئے انہیں معافی دے کر آئندہ محتاط رہنے اور محکمانہ قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کرنے کی ہدایت کی گئی۔
ڈائریکٹر این سی سی آئی اے پنجاب محمد علی وسیم نے اردل روم کے دوران واضح کیا کہ محکمانہ نظم و ضبط، شفافیت اور عوامی شکایات کا بروقت ازالہ ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے ، اہلکار اپنے فرائض ایمانداری، ذمہ داری اور قانون کے مطابق انجام دیں تاکہ عوام اور محکمے کے درمیان اعتماد مزید مضبوط ہو۔
ان کاکہنا تھا کہ محکمانہ احتساب کا عمل جاری رکھا جائے گا اور فرائض میں غفلت یا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے اہلکاروں کے خلاف محکمانہ قوانین کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔