بلوچستان حکومت نے صوبے کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں صحت کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے 1500 مراکز صحت کو ڈیجیٹل بنانے کا منصوبہ تیار کرلیا۔
منصوبے کے تحت مراکز صحت میں سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی اور ٹیلی میڈیسن کی سہولت متعارف کرائی جائے گی تاکہ ایسے علاقوں کے شہریوں کو بھی بہتر طبی مشاورت اور صحت کی سہولیات تک رسائی مل سکے جہاں ماہر ڈاکٹرز کی دستیابی محدود ہے۔
قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب کے مطابق یہ ڈیجیٹل ہیلتھ اقدامات بلوچستان حکومت نے خود شروع کیے ہیں، جبکہ سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی کے لیے سپارکو سے تعاون بھی متوقع ہے۔
بلوچستان حکومت نے گزشتہ 18 ماہ کے دوران صحت کے شعبے میں قانون سازی، انتظامی امور، انسانی وسائل اور بنیادی و اعلیٰ سطح کی طبی سہولیات میں اصلاحات کی ہیں۔ اس دوران صحت سے متعلق 8 قوانین نافذ کیے گئے جبکہ 20 سے زائد انتظامی اور مالی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا گیا۔
ہزاروں طبی ملازمین بھرتی اور ترقی پانے والے
صوبائی حکومت کے مطابق تقریباً 2739 ہیلتھ ورکرز بھرتی کیے گئے جبکہ 4254 طبی اہلکاروں کو ترقی دی گئی۔ ترقی پانے والوں میں 600 سے زائد ڈاکٹرز بھی شامل ہیں، جن کی ترقی سالانہ خفیہ رپورٹس کی شرط میں رعایت دے کر ممکن بنائی گئی۔ حکومت نے 164 ایسے بنیادی مراکز صحت بھی دوبارہ فعال کیے ہیں جو پہلے غیر فعال تھے۔
وزارت قومی صحت کے مطابق صحت کا شعبہ صوبائی معاملہ ہے، تاہم وفاقی حکومت ضرورت پڑنے پر بلوچستان کو تکنیکی رہنمائی، رابطہ کاری اور دیگر معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس تعاون میں ٹیلی میڈیسن، ڈیجیٹل ہیلتھ اور بیماریوں کی نگرانی کے نظام سے متعلق پالیسی رابطہ، معلومات کا تبادلہ اور تکنیکی معاونت شامل ہوسکتی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے خصوصاً بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔