فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے چھوٹے دکانداروں کو دستاویزی معیشت کے دائرے میں لانے کے لیے ایک انتہائی آسان اور جدید ’فکسڈ ٹیکس سکیم‘ متعارف کروا دی ہے۔
اس اسکیم کے تحت تاجروں کو روایتی آڈٹ سے استثنیٰ، صرف ایک صفحے کا ریٹرن اور ٹرن اوور پر محض 1 فیصد ٹیکس ادا کرنے کی بے مثال سہولت فراہم کی گئی ہے، جس کا بنیادی مقصد کاروباری طبقے کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال کرنا ہے۔
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے ایف بی آر کی چیف کمشنر (ان لینڈ ریونیو) لاہور، فضا بتول نے اس نئی اسکیم کے خدوخال واضح کیے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ خصوصی طریقہ کار ایس آر او (I)1166/2026 کے تحت جاری کیا گیا ہے۔
اس اسکیم کا بنیادی اصول ’ایک صفحہ، ایک ریٹرن، ایک فیصد‘ ہے۔ اہل دکانداروں کو اپنے ٹرن اوور کا صرف 1 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جبکہ کم از کم ٹیکس کی حد 25000 روپے مقرر کی گئی ہے۔
چیف کمشنر کے مطابق اہل کاروباری حضرات کو روایتی آڈٹ، پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) کے انضمام اور ڈیجیٹل انوائسنگ کی پیچیدہ شرائط سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا۔
’گرین پلیٹ‘ اور ہراسانی سے تحفظ
تاجروں کے تحفظات کو دور کرتے ہوئے ایف بی آر نے ایک منفرد قدم اٹھایا ہے۔ فضا بتول نے وضاحت کی کہ رجسٹرڈ ہونے والے دکانداروں کو ایک خصوصی ’گرین پلیٹ‘ جاری کی جائے گی۔ اس پلیٹ کے حامل دکانداروں کے احاطے میں فیلڈ ٹیمیں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گی جب تک کہ کوئی بہت بڑی بے ضابطگی سامنے نہ آئے۔
تاجروں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ایف بی آر نے ہیلپ لائن اور واٹس ایپ کی سہولت بھی متعارف کروائی ہے۔ اس کے علاوہ کھلی کچہریوں کا سلسلہ بھی شروع کیا جائے گا تاکہ تاجر براہ راست اپنے مسائل حکام تک پہنچا سکیں۔
دستاویزی معیشت کی جانب اہم قدم
ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ یہ سکیم مکمل طور پر رضاکارانہ ہے۔ تاجروں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ چاہیں تو پرانے ٹیکس نظام کے تحت ریٹرن جمع کروائیں یا اس نئے اور آسان نظام کا حصہ بنیں۔
فضا بتول نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں ٹیکس دینے والوں کی شرح خطرناک حد تک کم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ معاشی ترقی اور مساوی مواقع پیدا کرنے کے لیے ٹیکس نیٹ کو بڑھانا ناگزیر ہے۔