چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پیپلز پارٹی کے درمیان اعتماد کا فقدان ضرور ہے تاہم قومی مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی سندھ اور لاڑکانہ آمد سے متعلق سوال پر کہا کہ سیاسی سرگرمی کرنا ہر سیاسی جماعت اور سیاسی رہنما کا حق ہے۔ اگر کسی دوسرے صوبے کا وزیراعلیٰ سندھ آتا ہے تو سندھ کی روایتی مہمان نوازی کے مطابق اسے خوش آمدید کہا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے لاڑکانہ آنے پر انہوں نے خود انہیں خوش آمدید کہا تھا اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹویٹ بھی کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی سیاسی سرگرمیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی۔
بلاول بھٹو نے سڑک اکھاڑنے سے متعلق بیان پر کہا کہ انہوں نے یہ بیان نہیں دیکھا۔ تاہم اگر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کے دوران کسی قسم کے اندرونی مسائل یا مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے تو اس کا الزام پیپلز پارٹی پر عائد کرنا مناسب نہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پارلیمانی کمیٹیوں اور انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ خود پی ٹی آئی، اپوزیشن اور پارلیمنٹ، تینوں کے لیے درست نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کو دعوت دی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں واپس آ کر فعال اپوزیشن کا کردار ادا کرے اور پارلیمانی نظام کے اندر رہتے ہوئے اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔
جے یو آئی کے ساتھ پارلیمانی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام اپوزیشن بینچوں پر موجود ہے تاہم پارلیمنٹ کے اندر دونوں جماعتوں کے درمیان تعاون اچھا رہا ہے۔
محسن نقوی سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ محسن نقوی اپنی زبان بول رہے ہیں اور وہ اپنی زبان بولتے ہیں۔ ہر شخص کو اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے۔
نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر چیئرمین پیپلز پارٹی نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم قومی مسئلہ ہے اور اسے بزنس فورمز کے بجائے پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وہ نئے صوبوں کے معاملے پر کسی بھی وفاقی وزیر کے ساتھ بحث کے لیے تیار ہیں۔ ایسے اہم معاملات پر پارلیمنٹ ہی وہ فورم ہے جہاں تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی آرا پیش کرنی چاہئیں اور قومی سطح پر بحث کے ذریعے کسی نتیجے تک پہنچا جا سکتا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے ملک کے سیاسی نظام میں موجود خرابیوں پر بھی کھل کر بحث کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی نظام میں جو مسائل اور خامیاں موجود ہیں، ان پر بات چیت ہونی چاہیے تاکہ ان کا حل تلاش کیا جا سکے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ میں انتخابی اصلاحات کے لیے ایک جامع کمیٹی تشکیل دی جائے۔ اس کمیٹی میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو نمائندگی دی جائے تاکہ انتخابی نظام سے متعلق موجود مسائل کا جائزہ لیا جا سکے اور تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ان کا متفقہ حل نکالا جا سکے۔