پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف آج سے ایجبسٹن میں شروع ہونے والے سیریز کے آخری ٹیسٹ میچ کے لیے 12 ممکنہ کھلاڑی فائنل کر لیے ہیں، جبکہ قومی ٹیم میں 3 کھلاڑیوں کے ٹیسٹ ڈیبیو کرنے کا امکان ہے۔
اطلاعات کے مطابق بابر اعظم کی قیادت میں میدان میں اترنے والی پاکستانی ٹیم میں کراچی سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ وکٹ کیپر بیٹر غازی غوری کی شمولیت یقینی قرار دی جا رہی ہے۔ غازی غوری پہلی مرتبہ قومی ٹیسٹ ٹیم کی نمائندگی کریں گے۔
خانیوال سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ آل راؤنڈر محمد عمران رندھاوا بھی ایجبسٹن ٹیسٹ میں ڈیبیو کے مضبوط امیدوار ہیں۔ عمران رندھاوا نے 58 فرسٹ کلاس میچز میں دائیں ہاتھ کے بیٹر کی حیثیت سے 2 سنچریوں کی مدد سے 2255 رنز بنائے ہیں، جبکہ دائیں ہاتھ کے میڈیم فاسٹ بولر کی حیثیت سے 110 وکٹیں بھی حاصل کر چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اگر پاکستان ٹیم ایجبسٹن ٹیسٹ میں چار فاسٹ بولرز کے ساتھ میدان میں اترنے کا فیصلہ کرتی ہے تو مردان سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ فاسٹ بولر رضا اللہ کو بھی ٹیسٹ ڈیبیو کا موقع مل سکتا ہے۔
دائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر رضا اللہ نے 2025 میں پشاور کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ میں ڈیبیو کیا تھا۔ انہوں نے اب تک 8 فرسٹ کلاس میچز میں 30 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی ہے۔
دوسری جانب اگر قومی ٹیم ایجبسٹن ٹیسٹ میں ایک اسپنر کے ساتھ میدان میں اترتی ہے تو ملتان سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ بائیں ہاتھ کے اسپنر عرفات منہاس کو موقع ملنے کا امکان ہے۔ عرفات منہاس پاکستان کی جانب سے 3 ون ڈے انٹرنیشنل اور 4 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں۔
برمنگھم کے ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ پر انگلینڈ کے خلاف سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ کے لیے پاکستان کے 12 ممکنہ کھلاڑیوں میں صائم ایوب، اذان اویس، عبداللہ شفیق، کپتان بابر اعظم، شان مسعود، سعود شکیل، وکٹ کیپر غازی غوری، محمد عباس، محمد علی، محمد عمران رندھاوا، عرفات منہاس اور رضا اللہ شامل ہیں۔
پاکستان ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے فائنل پلیئنگ الیون کا فیصلہ پچ اور کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ بالخصوص فاسٹ بولنگ اور اسپن کے امتزاج کے حوالے سے فیصلہ اہم ہوگا، جس کے نتیجے میں رضا اللہ یا عرفات منہاس میں سے کسی ایک کو موقع مل سکتا ہے۔