اسلام آباد کے لوگ مجھے ووٹ سے کیوں نہیں ہٹا سکتے ؟ مصطفیٰ کمال نے وجہ بھی بتا دی

اسلام آباد کے لوگ مجھے ووٹ سے کیوں نہیں ہٹا سکتے ؟ مصطفیٰ کمال نے وجہ بھی بتا دی

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اسلام آباد کے موجودہ انتظامی نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے شہری اپنے ووٹ کے ذریعے انہیں وزیر صحت کے عہدے سے ہٹانے کا اختیار نہیں رکھتے اور یہ   نظام کی خرابی کو ظاہر کر تاہے۔ انہوں نے کہا کہ  اگر اسلام آباد ایک چھوٹا انتظامی یونٹ ہوتا تو یہاں کے عوام اپنی رائے اور ووٹ کے ذریعے کسی حکومتی نمائندے کی کارکردگی پر براہ راست اثر انداز ہو سکتے تھے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک میں چھوٹے انتظامی یونٹس قائم کرنے سے اختیارات عوام کے قریب منتقل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا  جب انتظامی نظام عوام کی سطح کے قریب ہوگا تو شہریوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے زیادہ مؤثر اختیار حاصل ہوگا۔

 یہ بھی پڑھیں :وزیر اعظم کا پمز واقعہ پر سخت ایکشن، سیکرٹری صحت کو عہدے سے ہٹا دیا 

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ عوام اب اس بات کو سمجھنے لگے ہیں کہ چھوٹے انتظامی نظام کے ذریعے انہیں سرکاری سہولیات اور فیصلہ سازی میں زیادہ آسانی حاصل ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق انتظامی یونٹس کی تشکیل کا مقصد اختیارات کو مرکز تک محدود رکھنے کے بجائے براہ راست عوام تک پہنچانا ہونا چاہیے۔

دوسری جانب وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں بعض مریضوں سے علاج کی فیس وصول کیے جانے کا نوٹس بھی لے لیا ہے۔ انہوں نے پمز انتظامیہ سے مریضوں سے فیس وصولی اور اس مد میں حاصل ہونے والی آمدن کی مکمل تفصیلات طلب کرلی ہیں۔

وزیر صحت نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر محمد سلمان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ فیس وصولی سے حاصل ہونے والی آمدن کی تفصیلات پہلے کیوں فراہم نہیں کی گئیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی سوال اٹھایا کہ اگر پمز میں 90 فیصد مریضوں کا علاج مفت کیا جا رہا ہے تو باقی 10 فیصد مریضوں کو بھی مفت طبی سہولیات کیوں فراہم نہیں کی جا سکتیں۔

 یہ بھی پڑھیں :وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے پمز اسپتال واقعہ کی بڑی وجہ بتا دی

 مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وہ پمز میں آنے والے تمام مریضوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کرنے کے معاملے پر وزیراعظم سے بات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے حکومت کی سطح پر بات چیت کی جائے گی تاکہ پمز میں زیر علاج تمام مریضوں کو بلا امتیاز مفت طبی سہولیات فراہم کرنے کی راہ نکالی جا سکے۔

editor

Related Articles