حکومت ایل این جی خریدنے میں تیسری بار ناکام، آگے کیا ہوگا؟

حکومت ایل این جی خریدنے میں تیسری بار ناکام، آگے کیا ہوگا؟

ملک میں بجلی کی پیداوار کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمد کا معاملہ ایک بار پھر تعطل کا شکار ہوگیا ہے پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) رواں ماہ تیسری مرتبہ ایل این جی کارگو خریدنے میں ناکام ہوگئی جبکہ تازہ ترین ٹینڈر میں کسی بھی عالمی کمپنی نے بولی جمع نہیں کرائی۔

ذرائع کے مطابق پی ایل ایل نے 12 سے 16 ستمبر 2026 کے دوران ترسیل کے لیے ایک ایل این جی کارگو کی خریداری کی غرض سے عالمی سپلائرز سے بولیاں طلب کی تھیں بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ 8 ستمبر مقرر تھی تاہم مقررہ وقت گزرنے تک کسی بھی عالمی کمپنی کی جانب سے پیشکش موصول نہیں ہوئی۔

یہ صورتحال اس لیے اہم قرار دی جارہی ہے کہ حکومت رواں ماہ اس سے قبل بھی ایل این جی کے دو ٹینڈرز منسوخ کرچکی ہے دونوں مواقع پر حکومت کو موصول ہونے والی بولیاں انتہائی بلند قیمتوں کی وجہ سے قابل قبول نہیں سمجھی گئیں۔

ذرائع کے مطابق 4 سے 8 ستمبر کے دوران ترسیل کے لیے جاری کیے گئے ٹینڈر میں صرف ایک بولی موصول ہوئی تھی جس میں ایل این جی کی قیمت 26.96 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی تھی۔ قیمت زیادہ ہونے کے باعث یہ بولی قبول نہیں کی گئی۔

اسی طرح 8 سے 12 ستمبر کے لیے جاری کیے گئے دوسرے ٹینڈر میں دو بولیاں موصول ہوئیں۔ ان میں ایک کمپنی نے 26.71 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو جبکہ دوسری نے 26.98 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پیش کی تاہم دونوں بولیاں بھی بلند قیمت کے باعث مسترد کردی گئیں۔

اب تازہ ترین ٹینڈر میں کسی کمپنی کی جانب سے بولی نہ دیا جانا حکومت کے لیے ایک نیا چیلنج بن گیا ہے۔ اس صورتحال سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ عالمی مارکیٹ میں پاکستان کے لیے فوری بنیادوں پر اسپاٹ ایل این جی کارگو حاصل کرنا آسان نہیں رہا۔

پاکستان بجلی کی پیداوار سمیت توانائی کی مختلف ضروریات کے لیے درآمدی گیس پر انحصار کرتا ہے۔ ایسے میں ایل این جی کارگو کی بروقت دستیابی نہ ہونے کی صورت میں بجلی گھروں کو گیس کی فراہمی، بجلی کی پیداوار اور مجموعی توانائی سپلائی کے حوالے سے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

حالیہ صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان کو ایک طرف عالمی مارکیٹ میں بلند قیمتوں کا سامنا ہے، جبکہ دوسری جانب بعض ٹینڈرز میں سپلائرز کی جانب سے بولی ہی جمع نہیں کرائی جارہی۔ ماضی میں بھی عالمی ایل این جی مارکیٹ میں سپلائرز کی جانب سے پاکستانی ٹینڈرز میں عدم دلچسپی سامنے آچکی ہے۔

اس صورتحال میں حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج مناسب قیمت پر ایل این جی کی دستیابی یقینی بنانا ہوگا، کیونکہ انتہائی مہنگے کارگو کی خریداری سے بجلی اور گیس کی مجموعی لاگت بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے، جبکہ کارگو دستیاب نہ ہونے کی صورت میں بجلی کی پیداوار پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان اور قطر کے درمیان 2026 کے دوران ایل این جی کارگوز کی فراہمی سے متعلق انتظامات بھی موجود ہیں، جس کے باعث ملک کی مجموعی ایل این جی سپلائی صرف اسپاٹ مارکیٹ پر منحصر نہیں ہے۔ تاہم، اضافی یا فوری ضرورت پوری کرنے کے لیے اسپاٹ کارگو کی دستیابی میں پیدا ہونے والی مشکلات توانائی کے شعبے کے لیے اہم چیلنج ضرور ہیں۔

تازہ ترین صورتحال کے بعد اب نظریں حکومت کے آئندہ اقدام پر مرکوز ہیں کہ آیا پی ایل ایل نیا ٹینڈر جاری کرتی ہے، موجودہ مارکیٹ میں دوبارہ بولیاں طلب کی جاتی ہیں یا متبادل ذرائع سے ایل این جی کی فراہمی کا انتظام کیا جاتا ہے

contributor

Related Articles