چین کے علاقے تبت میں 5.3 شدت کے زلزلے کے شدید جھٹکوں نے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا جس کے باعث لوگ جان بچانے کے لیے گھروں سے باہر نکل آئے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق 35 کلومیٹر کی گہرائی میں آنے والے اس زلزلے سے فی الحال کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
زلزلے کے جھٹکے اور شہریوں کی حالتِ غیر
ریکٹر اسکیل پر 5.3 شدت کے اس زلزلے نے علاقے کی عمارتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ زلزلے کے جھٹکے اس قدر شدید اور غیر متوقع محسوس کیے گئے کہ مقامی آبادی حواس باختہ ہو گئی۔
لوگ اپنی روزمرہ کی مصروفیات چھوڑ کر فوراً گھروں، دفاتر اور تجارتی مراکز سے نکل کر کھلے مقامات اور سڑکوں پر جمع ہو گئے۔ حکام کی جانب سے فوری طور پر امدادی کارروائیوں کے لیے ٹیموں کو الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔
حالیہ قدرتی آفات کا تسلسل
یہ زلزلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب تبت اور اس کے ملحقہ علاقے پہلے ہی قدرتی آفات کے زخم سہہ رہے ہیں۔ چند روز قبل، 26 اگست کو اسی خطے میں ایک گلیشیئر ٹوٹنے کا ہولناک واقعہ پیش آیا تھا۔
اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب اور ملبے کے بڑے ریلے نے تبت اور پڑوسی ملک نیپال کے سرحدی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔
اس تباہی کے اثرات نیپال میں زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوئے تھے، جہاں سیلابی ریلے نے مکانات، سڑکوں، رابطے کے اہم پلوں اور ’ہائیڈرو پاور‘ منصوبوں کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔
اس بدترین آفت کے نتیجے میں نیپال میں ہزاروں افراد لاپتا ہو گئے تھے، جن کی تلاش کا کام تاحال مشکلات کا شکار ہے۔
ارضیاتی دباؤ اور موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرہ
ارضیاتی اور قدرتی آفات کے ایک ماہر تجزیہ کار کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو تبت کا یہ خطہ اس وقت ایک انتہائی حساس موڑ پر کھڑا ہے۔
ہمالیائی پٹی ایک انتہائی متحرک ’فالٹ لائن‘ پر واقع ہے، جہاں ٹیکٹونک پلیٹوں کی رگڑ سے زلزلے آنا ایک معمول کی ارضیاتی سرگرمی ہے۔
تاہم، چند ہی روز کے مختصر وقفے میں گلیشیئر ٹوٹنے جیسی موسمیاتی آفت اور پھر 5.3 شدت کے زلزلے کا آنا محض ایک اتفاق نہیں کہا جا سکتا۔
عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کے باعث گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا اور ٹوٹنا زمین کی اوپری سطح پر موجود وزن اور دباؤ کو تبدیل کر رہا ہے، جو زیرِ زمین ارضیاتی تناؤ کو متحرک کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی یہ ارضیاتی و موسمیاتی سرگرمیاں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ دونوں ممالک نیپال اور چین، اس پہاڑی سلسلے میں اپنے بنیادی ڈھانچے اور بالخصوص پن بجلی کے منصوبوں کی تعمیر نو میں جدید ترین حفاظتی معیارات کو یقینی بنائیں۔