وزیرِ تعلیم سندھ سردار شاہ نے سرکاری اسکولوں کے اوقات میں 1 گھنٹے کی کمی کا اعلان کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے اوقات کار میں ایک گھنٹہ کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدید گرمی کے باعث طلبہ کو تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ صوبے کے متعدد اسکولوں میں بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں۔
کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید سردار علی شاہ نے کہا کہ آج تک ہم کوئی یونیفارم یا مؤثر پالیسی بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے، 52 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی میں بچے کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہیں اور کئی اسکولوں میں بچوں کے لیے مناسب چھت تک دستیاب نہیں۔
ان کاکہنا تھا کہ شدید گرمی میں کھلے آسمان تلے بیٹھ کر بچوں کا تعلیم حاصل کرنا تعلیمی نظام کی زبوں حالی کو ظاہر کرتا ہے، کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی مشکلات فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے جبکہ اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ بچوں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے اسکولوں میں مناسب چھت اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ سالانہ 1200 ارب روپے کے وفاقی پی ایس ڈی پی میں سے تعلیم کے لیے مزید فنڈز مختص کیے جائیں۔
سید سردار علی شاہ کا کہنا تھا کہ لاکھوں بچوں کو کمیونٹی بیسڈ مراکز کے ذریعے تعلیم دی جا رہی ہے، تاہم گزشتہ تین سال سے بجٹ میں اضافہ نہ ہونے کے باعث مشکلات میں اضافہ ہوا ہے، مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے جس کے باعث تعلیمی مراکز کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں، سندھ کے 480 ارب روپے کے تعلیمی بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن کا حصہ الگ کیا جائے جبکہ آپریشنل اور نان آپریشنل اخراجات کی تفصیلات بھی سامنے لانا ضروری ہیں ۔