برمنگھم میں انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں پاکستان کی بیٹنگ لائن ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہوگئی اور پوری ٹیم صرف 133 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی۔
پاکستان نے اپنی پہلی اننگز کا آغاز کیا تو انگلش فاسٹ بولرز نے ابتدا ہی سے پاکستانی بیٹرز کو دباؤ میں رکھا،قومی ٹیم 33.5 اوورز میں تمام وکٹیں گنوا بیٹھی، جبکہ 8 پاکستانی بیٹرز ڈبل فگرز میں بھی داخل نہ ہوسکے۔
سعود شکیل پاکستان کی جانب سے سب سے نمایاں بیٹر رہے، انہوں نے 43 رنز کی اننگز کھیلی، تاہم وہ بھی ٹیم کو بڑے مجموعے تک پہنچانے میں کامیاب نہ ہوسکے،محمد عباس نے 21 رنز بنائے جبکہ رضا اللہ 11 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، اذان اویس نے 9 رنز کی اننگز کھیلی۔
بابر اعظم بھی ناکام
قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم بھی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اور صرف 7 رنز بنا کر کلین بولڈ ہوگئے،شان مسعود اور محمد عمران رندھاوا نے 5، 5 رنز بنائے، عبداللہ شفیق 3 جبکہ صائم ایوب بغیر کوئی رن بنائے پویلین واپس لوٹ گئے،محمد غازی غوری بھی اپنے ٹیسٹ ڈیبیو پر صرف 4 رنز بنا سکے۔
انگلش بولرز کی تباہ کن بولنگ
انگلینڈ کی جانب سے فاسٹ بولنگ اٹیک نے پاکستانی بیٹنگ کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا، جوش ٹنگ نے پاکستانی بیٹرز کو مشکلات سے دوچار کیا، جبکہ اولی رابنسن اور جوفرا آرچر نے بھی شاندار بولنگ کرتے ہوئے تین، تین وکٹیں حاصل کیں۔
تین کھلاڑیوں کا ڈیبیو
تیسرے ٹیسٹ کے لیے پاکستان کی پلیئنگ الیون میں تین کھلاڑیوں کو ٹیسٹ ڈیبیو کا موقع دیا گیا،وکٹ کیپر بیٹر محمد غازی غوری نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا، انہیں سعود شکیل نے ٹیسٹ کیپ پہنائی، جبکہ محمد عباس نے رضا اللہ کو ٹیسٹ کیپ دی۔
خانیوال سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ آل راؤنڈر محمد عمران رندھاوا نے بھی ٹیسٹ ڈیبیو کیا، انہوں نے 58 فرسٹ کلاس میچوں میں 2,255 رنز بنائے ہیں، جن میں دو سنچریاں شامل ہیں، جبکہ میڈیم فاسٹ بولنگ کے ذریعے 110 وکٹیں بھی حاصل کرچکے ہیں۔
پاکستان کی پلیئنگ الیون
ایجبسٹن ٹیسٹ کے لیے پاکستان کی ٹیم میں صائم ایوب، اذان اویس، عبداللہ شفیق، کپتان بابر اعظم، شان مسعود، سعود شکیل، وکٹ کیپر محمد غازی غوری، محمد عباس، محمد علی، محمد عمران رندھاوا، عرفات منہاس اور رضا اللہ شامل ہیں۔