ایران نے یمن کی انصار اللہ سے متعلق امریکی وزیر خارجہ کے تازہ ترین بیانات اور الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی ترجمان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اپنی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔
یوراگوئے یا یمن، فیصلے خود کرتی ہے
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ انصار اللہ ایک بالکل خودمختار تنظیم ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ گروپ اپنے تمام تر فیصلے خود کرتا ہے، نہ ہی یہ کسی سے احکامات لیتا ہے اور نہ ہی یہ کسی دوسرے ملک کی پراکسی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اسماعیل بقائی نے زور دے کر کہا کہ اگر امریکا مشرق وسطیٰ میں حقیقی معنوں میں امن و امان کا خواہا ں ہے، تو اسے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی اپنی تمام تر غیر ضروری اور حاکمانہ فوجی مداخلتوں کو فوراً بند کرنا ہو گا۔
ایرانی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ بمباری، فوجی کارروائیوں اور بیرونی سیاسی دباؤ کے ذریعے یمن کے علاقے میں کبھی بھی پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار سلامتی کا واحد حل تمام متعلقہ فریقین کے متفقہ روڈ میپ اور سنجیدہ سیاسی بات چیت میں پنہاں ہے۔