ایکسس ٹو فنانس اسٹیئرنگ کمیٹی نے الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے پروگرام کے تحت 17 ہزار 118 درخواستیں منظور کرلی ہیں، جبکہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے منظور شدہ قرضوں کو عملی طور پر جاری کرنے کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ایکسس ٹو فنانس پروگرام اسٹیئرنگ کمیٹی کا چوتھا اجلاس ہوا، جس میں الیکٹرک گاڑیوں کی فراہمی، قرضوں کے اجرا، مالیاتی آگاہی پروگرامز اور نجی شعبے کو فنانسنگ کی فراہمی سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے پروگرام کے تحت اب تک ایک ہزار 860 الیکٹرک بائیکس فراہم کی جاچکی ہیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 2 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد کے قرضے منظور کیے جاچکے ہیں، جبکہ منظور شدہ قرضوں میں سے 80 کروڑ روپے سے زائد کی رقم جاری بھی کی جاچکی ہے۔
وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ جن درخواستوں کی منظوری دی جاچکی ہے، ان کے قرضوں کے عملی اجرا کے عمل کو مزید تیز کیا جائے تاکہ پروگرام کے فوائد جلد از جلد شہریوں تک پہنچ سکیں۔
اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ پروگرام کے تحت اب تک 17 ہزار 118 درخواستیں منظور کی جاچکی ہیں۔ حکومت کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جارہی ہے تاکہ شہریوں کے لیے ماحول دوست گاڑیوں تک رسائی آسان بنائی جاسکے۔
قرضوں کی منظوری کے ساتھ ساتھ ان کی عملی فراہمی کو بھی پروگرام کی کامیابی کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ وزیر خزانہ نے زور دیا کہ صرف قرض کی منظوری کافی نہیں بلکہ منظور شدہ فنانسنگ کو حقیقی معاشی سرگرمی میں تبدیل ہونا چاہیے۔
اجلاس میں ملک بھر میں مالیاتی آگاہی کے پروگرامز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 508 مالیاتی آگاہی پروگرامز منعقد کیے جانے ہیں، جن میں سے تقریباً 100 پروگرام پہلے ہی منعقد کیے جاچکے ہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ان پروگرامز کے نتائج اور عملی اثرات کا جائزہ لینے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف پروگرامز منعقد کرنا کافی نہیں، بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ان سرگرمیوں سے عام شہریوں، کاروباری افراد اور دیگر متعلقہ طبقات کو حقیقی طور پر کیا فائدہ پہنچ رہا ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ کاروباری افراد کے لیے رسمی مالیاتی نظام تک رسائی آسان بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے نجی شعبے کو فنانسنگ کی فراہمی میں اضافہ کرنا ہوگا۔
وزیر خزانہ کے مطابق نجی شعبہ معاشی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اگر کاروباری افراد کو مناسب مالی وسائل تک رسائی حاصل ہو تو سرمایہ کاری، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
وزیر خزانہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فنانسنگ کی منظوری کو حقیقی قرض، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمی میں تبدیل کرنا ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قرضوں کی منظوری اور رقم کے اجرا کے درمیان غیر ضروری تاخیر نہیں ہونی چاہیے، تاکہ پروگرام کے مقاصد حاصل کیے جاسکیں اور فنانسنگ سے عملی معاشی فوائد سامنے آسکیں۔
اجلاس میں ایکسس ٹو فنانس پروگرام کی پیش رفت، الیکٹرک گاڑیوں کے لیے قرضوں کی منظوری و اجرا اور مالیاتی آگاہی پروگرامز کے اثرات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ متعلقہ حکام کو پروگرام پر عملدرآمد مزید مؤثر بنانے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی