معروف پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال اور ان کے شوہر حمزہ حبیب نے ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات پر کھل کر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مسترد کردیا ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا سے خصوصی گفتگو میں رمشا اقبال نے کہا کہ ثاقب چدھڑ کے بیانات سن کر وہ حیران ہیں اور انہیں یہ معاملہ اب سنجیدہ ہونے کے بجائے عجیب اور ناقابل فہم محسوس ہوتا ہے۔
رمشا اقبال نے اپنے خاندانی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خاندان ایک معزز پس منظر رکھتا ہے اور انہیں کبھی مالی مشکلات کی وجہ سے اپنی تعلیم روکنے کی ضرورت نہیں پڑی۔
انہوں نے بتایا کہ تعلیم مکمل ہونے تک ان کے والد حیات تھے اور ان کی تعلیم کے اخراجات کے لیے پیسوں کی کبھی کوئی کمی نہیں ہوئی۔
رمشا کے مطابق انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا اور لندن سمیت مختلف مقامات پر درخواستیں دیں، تاہم آسٹریلیا انہیں بہتر انتخاب لگا، جہاں انہوں نے داخلہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا میں تعلیم کے دوران ان کے والد اور بہن مومنہ اقبال ان کی مالی معاونت اور بینک اسٹیٹمنٹ سے متعلق امور میں گارڈین تھے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈپریشن سے روحانی سفر تک، فرح شاہ نے زندگی کی بڑی تبدیلی بتادی
رمشا اقبال نے ثاقب چدھڑ کے الزامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی خاندان کے بارے میں اس طرح کی باتیں کرنا انتہائی نامناسب ہے اور ہر شخص کو گفتگو میں حدود کا خیال رکھنا چاہیے۔
حمزہ حبیب کا بھی مؤقف سامنے آگیا
دوسری جانب مومنہ اقبال کے شوہر حمزہ حبیب نے بھی اسی انٹرویو میں معاملے پر اپنا مؤقف پیش کیا۔
حمزہ حبیب نے بتایا کہ ان کی شادی کی رخصتی اور ولیمہ اگلے سال ہوگا۔ ان کے مطابق ان تقریبات کا ثاقب چدھڑ کے جیل جانے یا نہ جانے سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کسی کے ساتھ ان کی ذاتی لڑائی نہیں، تاہم جب انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے یا کوئی شخص اپنے اثر و رسوخ کا غلط استعمال کررہا ہے تو وہ اپنا مؤقف سامنے رکھنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں۔
حمزہ حبیب کا کہنا تھا کہ انہیں کسی قسم کی شہرت یا تعارف حاصل کرنے کی ضرورت نہیں اور ان کے مطابق ان کا کیس قانونی اور سائنسی بنیادوں پر مضبوط ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستانی شوبز ستاروں کا 80 کی دہائی والا روپ، تصاویر نے دھوم مچادی
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف درج ایف آئی آر میں مخالف فریق کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔ ان کے بقول یہ کارروائی اثر و رسوخ کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
حمزہ حبیب نے مزید کہا کہ اگر معاملے میں واقعی ٹھوس شواہد موجود ہوتے تو صورتحال مختلف ہوتی، تاہم وہ اس وقت اپنا مؤقف آزادانہ طور پر پیش کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس معاملے میں ثاقب چدھڑ اور دیگر متعلقہ فریقین کا مؤقف بھی اپنی جگہ موجود ہے، جبکہ معاملے کی قانونی حیثیت کا حتمی فیصلہ متعلقہ ادارے اور عدالت ہی کرسکتے ہیں۔
