پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے حالیہ اضافے کے خلاف لاہور میں رات گئے رکشہ، بس اور موٹر سائیکل ڈرائیور سڑکوں پر نکل آئے۔
مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام یتیم خانہ چوک میں احتجاج کیا گیا جہاں شرکا نے مہنگے پیٹرول کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور حکومت سے قیمتوں میں فوری کمی کا مطالبہ کیا۔
پیٹرول مہنگا ہونے سے روزگار متاثر
احتجاج میں شریک ڈرائیوروں کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمت میں صرف تین روز کے دوران 21 روپے کا اضافہ عام آدمی کے لیے ناقابل برداشت بوجھ بن گیا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے خاص طور پر رکشہ ڈرائیوروں کی روزانہ آمدنی کو متاثر کیا ہے، کیونکہ کم آمدن میں ایندھن کے بڑھتے اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مظاہرین نے کہا کہ مہنگائی پہلے ہی عام شہریوں کی قوت خرید محدود کر چکی ہے جبکہ پیٹرول مزید مہنگا ہونے سے روزمرہ سفر، اشیائے ضروریہ اور دیگر اخراجات بھی بڑھنے کا خدشہ ہے۔
حکومت سے قیمتیں واپس لینے کا مطالبہ
احتجاجی شرکا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ واپس لیا جائے اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔ ملی رکشہ یونین کے نمائندوں نے بھی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ڈرائیور طبقے کے لیے روزگار جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
یونین رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔
اشرافیہ پر بوجھ منتقل کرنے کا مطالبہ
مظاہرین کا کہنا تھا کہ معاشی مشکلات کا تمام بوجھ عام شہریوں پر ڈالنے کے بجائے حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہییں جن سے کم آمدن والے طبقے کو حقیقی ریلیف مل سکے۔ ان کے مطابق عوام مسلسل بڑھتی مہنگائی سے پریشان ہیں اور مزید قیمتوں میں اضافہ ان کے لیے مشکلات کا سبب بن رہا ہے ۔