یورپی مارکیٹ میں قدرتی گیس کے نرخ 80 یورو فی میگاواٹ آور سے تجاوز کرگئے ہیں۔ یہ قیمت 2023 کے بعد بلند ترین سطح قرار دی جارہی ہے۔
گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے یورپی ممالک کے لیے موسم سرما سے قبل توانائی کی ضروریات پوری کرنے کا چیلنج بڑھا دیا ہے۔
موسم سرما سے پہلے گیس کی طلب بڑھنے کا امکان
یورپ میں سرد موسم شروع ہوتے ہی گھروں اور صنعتی شعبے میں قدرتی گیس کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے۔
گھروں کو گرم رکھنے کے علاوہ بجلی کی پیداوار اور صنعتی سرگرمیوں کے لیے بھی گیس کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔
ایسے وقت میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ یورپی صارفین اور صنعتوں کے اخراجات میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
گیس کے ذخائر کم سطح پر
یورپ کو اس وقت گیس کے کم ذخائر کے باعث بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :صارفین ہوشیار، پاکستان میں گیس بحران کا خدشہ، شارٹ فال 700 ملین مکعب فٹ سے تجاوز کرگیا
خطے کے کئی ممالک موسم سرما سے قبل اپنے گیس ذخائر بھرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم موجودہ صورتحال میں ذخائر کی مطلوبہ سطح تک بروقت بھرائی ایک اہم چیلنج بن گئی ہے۔
اگر سردیوں کے دوران گیس کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوا تو یورپی ممالک کو اضافی گیس مہنگے داموں خریدنا پڑ سکتی ہے۔
ایران جنگ سے سپلائی کے خدشات
امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ جنگ نے عالمی توانائی مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کردی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے باعث گیس کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بھی ظاہر کیے جارہے ہیں۔
خطے سے یورپ کو فراہم ہونے والی مائع قدرتی گیس کی ترسیل پر بھی ممکنہ اثرات کے خدشات موجود ہیں۔
سپلائی میں کسی بھی بڑی رکاوٹ کی صورت میں یورپ میں گیس کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
یورپی ممالک کو پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا
گیس کی ممکنہ قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر یورپی یونین کے رکن ممالک کو رواں سال مارچ میں احتیاطی اقدامات کی ہدایت کی گئی تھی۔
ممالک پر زور دیا گیا تھا کہ وہ موسم سرما کی ضروریات پوری کرنے کے لیے گیس ذخیرہ کرنے کا عمل بروقت شروع کریں۔
یہ بھی پڑھیں :چمن میں ایل پی جی کا شدید بحران، ایرانی گیس 450 روپے فی کلو فروخت
موجودہ قیمتوں میں اضافے کے بعد گیس ذخیرہ کرنے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
توانائی بحران کا خطرہ
یورپ میں گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے ایک مرتبہ پھر توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا کردیا ہے۔


