سوشل میڈیا صارفین کے لیے بڑی خبر، اپنی فیڈ پر خود اختیار ملنے کا امکان

سوشل میڈیا صارفین کے لیے بڑی خبر، اپنی فیڈ پر خود اختیار ملنے کا امکان

آسٹریلیا نے سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے ایک اہم تجویز پیش کردی ہے جس کے تحت صارفین کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے گا کہ وہ اپنی فیڈ میں کس نوعیت کا مواد دیکھنا چاہتے ہیں۔

مجوزہ قانون کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو صارفین کو واضح طور پر بتانا ہوگا کہ ان کی ڈیفالٹ فیڈ کس طرح کام کرتی ہے اور صارف کو یہ انتخاب بھی دینا ہوگا کہ وہ الگورتھم کی جانب سے تجویز کردہ مواد دیکھنا چاہتا ہے یا نہیں۔

اگر صارف ذاتی نوعیت کی تجاویز کو بند کرنے کا انتخاب کرتا ہے تو اسے صرف ان افراد اور تخلیق کاروں کی پوسٹس دکھائی جائیں گی جنہیں وہ خود فالو کرتا ہے۔ آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیزی کا کہنا ہے کہ یہ ایک عملی اصلاح ہے جس کا مقصد حکومت کو سوشل میڈیا صارفین پر مزید اختیار دینا نہیں بلکہ صارفین کو خود اپنی فیڈ پر زیادہ کنٹرول دینا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پارلیمانی نظام میں ڈیجیٹل تبدیلی، سینیٹ موبائل ایپ کا افتتاح

دنیا بھر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے الگورتھمز پر بحث تیز ہوگئی ہے۔ ماہرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے نظام صارف کی دلچسپی کو مسلسل جانچتے ہوئے اسے وہی مواد بار بار دکھاتے ہیں جو اسے زیادہ دیر تک پلیٹ فارم پر مصروف رکھ سکتا ہے۔ اس صورتحال کے باعث سوشل میڈیا کے ضرورت سے زیادہ استعمال اور اس کی عادت بننے کے خدشات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

آسٹریلیا کی نئی تجویز میں کمپنیوں کو یہ ریکارڈ بھی رکھنا ہوگا کہ انہوں نے صارفین کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کیے اور یہ اقدامات کس حد تک مؤثر ثابت ہوئے۔ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں سوشل میڈیا کمپنیوں کو 10 کروڑ 92 لاکھ آسٹریلوی ڈالر تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اب بینک جانے یا ایپ کھولنے کی ضرورت نہیں؟ واٹس ایپ سے بینکنگ کا نیا طریقہ آگیا

آسٹریلیا کا انٹرنیٹ ریگولیٹر ای سیفٹی مجوزہ قانون پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا۔ اسے بڑی ٹیک کمپنیوں کو نقصان دہ، عریاں اور غیر قانونی مواد فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت دینے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔تاہم آزادی اظہار کے حامیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس قانون کے ذریعے سوشل میڈیا پر ضرورت سے زیادہ پابندیاں عائد ہوسکتی ہیں اور یہ سنسرشپ کا راستہ کھول سکتا ہے۔

وزیر اعظم البانیزی نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا مقصد صارفین سے اختیار لینا نہیں بلکہ انہیں اپنی فیڈ کے بارے میں زیادہ اختیار دینا ہے۔ مجوزہ قانون کا مسودہ سوشل میڈیا کمپنیوں، صنعتی اداروں، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ حلقوں کے سامنے مشاورت کے لیے پیش کیا جائے گا۔ آسٹریلوی حکومت کی توقع ہے کہ بل رواں سال پارلیمنٹ میں پیش کردیا جائے گا۔

اگر یہ قانون منظور ہوجاتا ہے تو آسٹریلیا ان ممالک میں شامل ہوجائے گا جہاں سوشل میڈیا صارفین کو یہ طے کرنے کا زیادہ اختیار دیا جا رہا ہے کہ ان کی اسکرین پر کیا دکھائی دے اور کیا نہیں۔

editor

Related Articles