امریکا، برطانیہ اور فرانس سمیت 4 ممالک ایران کے خلاف متحد، اہم قرارداد منظور

امریکا، برطانیہ اور فرانس سمیت 4 ممالک ایران کے خلاف متحد، اہم قرارداد منظور

 بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اہم قرارداد منظور کرلی ہے۔

قرارداد کے تحت ایران کی جوہری عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں سے متعلق معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک پہنچانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

یہ اقدام تقریباً دو دہائیوں بعد پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے۔ ایجنسی نے ایران کو جوہری ذمہ داریوں کی عدم تکمیل کا مرتکب قرار دیا ہے۔

قرارداد کی منظوری

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے قرارداد پر ووٹنگ کی۔

قرارداد امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے مشترکہ طور پر پیش کی تھی۔

 یہ بھی پڑھیں :برطانوی ہاؤس آف لارڈز میں پاکستان کے ایران امریکہ تنازعہ میں ثالثی کردار کی تعریف

ووٹنگ کے دوران قرارداد کے حق میں 23 ارکان نے رائے دی۔

تین ممالک نے قرارداد کی مخالفت کی، جبکہ آٹھ ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

روس، چین اور نائیجر قرارداد کی مخالفت کرنے والے ممالک میں شامل تھے۔

گزشتہ قرارداد سے کیا تعلق ہے؟

ایجنسی کی نئی قرارداد گزشتہ برس 12 جون کو منظور ہونے والی قرارداد کے بعد سامنے آئی ہے۔

پہلی قرارداد میں ایران کو اپنی جوہری ذمہ داریوں کی عدم تعمیل کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔

ایران کے خلاف معاملہ سلامتی کونسل میں اٹھانے کے لیے نئی قرارداد کی منظوری ضروری سمجھی جا رہی تھی۔

تازہ فیصلے کے بعد اس معاملے کو اقوام متحدہ کے اہم ترین ادارے تک لے جانے کا راستہ کھل گیا ہے۔

غیر اعلانیہ جوہری مقامات کا معاملہ

ایران کے خلاف عدم تعمیل کا فیصلہ کئی برس سے جاری تحقیقات سے متعلق ہے۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے ایران کے بعض غیر اعلانیہ مقامات پر یورینیم کے ذرات دریافت کیے تھے۔

ایجنسی نے ان مقامات اور وہاں موجود جوہری مواد سے متعلق وضاحتیں طلب کی تھیں۔

ایران کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کو ایجنسی نے اپنے سوالات کا مکمل جواب قرار نہیں دیا۔

یہ معاملہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ سے پہلے ہی زیر بحث تھا۔

جنگ کے بعد نیا تنازع

ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق صورتحال اب مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔

اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران میں بعض جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان کی سفارتی کامیابیاں: بھارتی میڈیا ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان کا مثالی کردار تسلیم کرنے پر مجبور

ان حملوں کے بعد بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے لیے متاثرہ مقامات تک رسائی بھی اہم مسئلہ بن گئی ہے۔

ایجنسی کو ان مقامات کا جائزہ لینے اور جوہری مواد سے متعلق صورتحال جاننے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

سلامتی کونسل میں معاملہ جانے کے بعد کیا ہوگا؟

قرارداد کی منظوری کے بعد ایران کا جوہری معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر بحث آسکتا ہے۔

اس پیش رفت سے ایران اور مغربی ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

ایران طویل عرصے سے اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا آیا ہے۔

دوسری جانب مغربی ممالک ایران کی جوہری سرگرمیوں اور عالمی جوہری ذمہ داریوں سے متعلق شفافیت پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔

تازہ قرارداد نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی سطح پر جاری تنازع کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا ہے۔

editor

Related Articles