اکھاڑے کا وہ سلطان جسے کوئی نہ ہرا سکا،پاکستانی سلطان زبیر جھارا پہلوان کون تھے؟

اکھاڑے کا وہ سلطان جسے کوئی نہ ہرا سکا،پاکستانی سلطان زبیر جھارا پہلوان کون تھے؟

 پاکستان کی کشتی کی تاریخ میں کئی نام ایسے ہیں جنہیں وقت بھی فراموش نہیں کرسکا۔ زبیر جھارا پہلوان بھی انہی عظیم ناموں میں شامل ہیں۔

وہ اپنی غیر معمولی طاقت، مہارت اور مقابلے میں ثابت قدمی کے باعث پاکستانی کشتی کی ایک نمایاں شخصیت بنے۔

10 ستمبر 1991ء کو ان کا انتقال ہوا تھا۔ آج ان کی وفات کو 35 برس مکمل ہوگئے ہیں۔

زبیر جھارا پہلوان کون تھے؟

محمد زبیر، جنہیں دنیا جھارا پہلوان کے نام سے جانتی ہے، لاہور سے تعلق رکھنے والے نامور پاکستانی پہلوان تھے۔

انہوں نے کم عمری میں ہی کشتی کے میدان میں قدم رکھا۔ اکھاڑے میں مسلسل محنت نے انہیں جلد ہی نمایاں پہلوانوں میں شامل کر دیا۔

جھارا پہلوان کا شمار پاکستان کے ان پہلوانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ملکی اور عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

ان کی پہلوانی صرف جسمانی طاقت تک محدود نہیں تھی۔ وہ مقابلے کے دوران حکمت عملی اور برداشت کے لیے بھی مشہور تھے۔

اکھاڑے میں ناقابلِ شکست سفر

جھارا پہلوان نے اپنے کیریئر کے دوران متعدد قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیا۔

ان کے بارے میں دستیاب تاریخی معلومات کے مطابق انہوں نے 60 سے زائد مقابلوں میں شرکت کی۔

خاص بات یہ تھی کہ انہیں اپنے کیریئر میں شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

مسلسل فتوحات نے انہیں پاکستانی کشتی کے شائقین میں غیر معمولی مقبولیت دلائی۔

ان کا نام اکھاڑے میں طاقت اور کامیابی کی علامت بن گیا۔

انوکی کے خلاف تاریخی مقابلہ

جھارا پہلوان کے کیریئر کا سب سے یادگار مقابلہ جاپان کے معروف ریسلر انوکی کے خلاف قرار دیا جاتا ہے۔

17 جون 1979ء کو ہونے والے اس مقابلے نے پاکستانی کشتی کی تاریخ میں ایک اہم مقام حاصل کیا۔

جھارا پہلوان نے اپنے مضبوط حریف کا مقابلہ کیا اور کامیابی حاصل کرکے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی۔

اس فتح نے پاکستانی عوام میں ان کے لیے پہلے سے موجود محبت کو مزید بڑھا دیا۔

ان کی کامیابی کو اس دور میں پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ سمجھا گیا۔

فخرِ پاکستان اور رستمِ پاکستان

جھارا پہلوان کی مسلسل کامیابیوں کے باعث انہیں مختلف اعزازات اور خطابات سے نوازا گیا۔

انہیں ’’فخرِ پاکستان‘‘ اور ’’رستمِ پاکستان‘‘ جیسے اعزازات سے یاد کیا جاتا ہے۔

کشتی کے شائقین کے لیے جھارا صرف ایک کامیاب پہلوان نہیں تھے۔

وہ اس دور کی پاکستانی کشتی کی نمائندگی کرنے والی اہم شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔

ان کی شہرت اکھاڑے سے نکل کر عوامی سطح تک پہنچ گئی تھی۔

کامیابی کے پیچھے محنت

جھارا پہلوان کی کامیابی کے پیچھے مسلسل محنت اور سخت تربیت کا بڑا کردار تھا۔

پہلوانی کے میدان میں کامیابی کے لیے جسمانی طاقت کے ساتھ غیر معمولی برداشت بھی ضروری ہوتی ہے۔

جھارا نے اپنی زندگی کا اہم حصہ اسی فن کی تربیت اور مقابلوں میں صرف کیا۔

ان کا انداز نوجوان پہلوانوں کے لیے حوصلے اور عزم کی مثال بن گیا۔

صرف 31 برس کی عمر میں انتقال

پاکستانی کشتی کے اس عظیم نام کا سفر زیادہ طویل نہ ہوسکا۔

10 ستمبر 1991ء کو جھارا پہلوان لاہور میں انتقال کرگئے۔

اس وقت ان کی عمر صرف 31 برس تھی۔

ان کی اچانک موت نے پاکستانی کشتی کے حلقوں اور مداحوں کو غمزدہ کردیا۔

ایک ایسا پہلوان جس نے اکھاڑے میں شکست کا ذائقہ نہیں چکھا تھا، زندگی کی جنگ بہت کم عمر میں ہار گیا۔

آخری آرام گاہ آج بھی موجود

لاہور کی موہنی روڈ پر واقع تاریخی بھولو پہلوان اکھاڑا جھارا پہلوان کی یاد سے جڑا ہوا ہے۔

یہی مقام ان کی آخری آرام گاہ بھی ہے۔

کشتی کے شائقین آج بھی اس مقام کو پاکستان کے سنہری پہلوانی دور کی یادگار سمجھتے ہیں۔

جھارا پہلوان کی قبر ان کے مداحوں کو اس عظیم دور کی یاد دلاتی ہے۔

جھارا پہلوان کی میراث

وقت گزرنے کے باوجود جھارا پہلوان کا نام پاکستانی کشتی کی تاریخ میں زندہ ہے۔

ان کی فتوحات آج بھی نئے پہلوانوں کے لیے حوصلے کا ذریعہ ہیں۔

انہوں نے ثابت کیا کہ عزم، محنت اور ہمت کے ذریعے عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کیا جاسکتا ہے۔

جھارا پہلوان آج ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی کامیابیاں پاکستانی کھیلوں کی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔

ان کی داستان صرف ایک پہلوان کی کامیابی کی کہانی نہیں۔

یہ ایک ایسے پاکستانی کھلاڑی کی داستان ہے جس نے اکھاڑے میں اپنی صلاحیتوں سے وطن کا نام بلند کیا۔

اسی وجہ سے زبیر جھارا پہلوان کا نام آج بھی پاکستانی کشتی کے عظیم ترین ناموں میں شمار ہوتا ہے

editor

Related Articles