وفاقی حکومت نے سرکاری اخراجات میں کمی اور ادارہ جاتی رائٹ سائزنگ کے عمل کو تیز کرتے ہوئے وفاقی وزارتوں اور ان سے منسلک محکموں میں ایک سال سے خالی پڑی باقاعدہ آسامیوں میں سے 60 فیصد ختم کرنے کی ہدایت جاری کردی۔
تازہ فیصلے کے تحت وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور ملحقہ سرکاری اداروں میں خالی آسامیوں کے ریکارڈ کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا اور مقررہ معیار پر پورا اترنے والی آسامیوں کو ختم کرکے متعلقہ اداروں کی تنظیم نو کی جائے گی۔
کنٹرولر جنرل اکاؤنٹس کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق تمام متعلقہ اکاؤنٹس دفاتر کو خالی آسامیوں کے ریکارڈ اور بھرتی کے کوٹے کی تنظیم نو اور نظرثانی کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ اقدام وفاقی کابینہ کے کفایت شعاری اور ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق فیصلوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں کیا جا رہا ہے۔
حکومتی رائٹ سائزنگ پالیسی کے تحت طویل عرصے سے خالی پڑی ایسی آسامیاں ختم کی جا رہی ہیں جنہیں ضروری سروس ڈلیوری کیلئے ناگزیر قرار نہیں دیا گیا۔ سرکاری سطح پر اس اقدام کا مقصد غیر ضروری اخراجات میں کمی، اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا اور دستیاب انسانی وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنا ہے۔ حکومت اس سے قبل بھی مختلف وزارتوں اور محکموں میں خالی آسامیوں کے خاتمے کا عمل شروع کر چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
تاہم تمام خالی آسامیاں ختم نہیں کی جائیں گی۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق تبادلے یا تعیناتی کے باعث عارضی طور پر خالی ہونے والی آسامیوں اور ترقی کیلئے مختص آسامیوں کو اس عمل سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔
آئی ایم ایف جائزہ مذاکرات سے پہلے اہم پیش رفت
وفاقی حکومت کی جانب سے اخراجات میں کمی اور ادارہ جاتی اصلاحات پر عمل درآمد ایسے وقت میں تیز کیا جا رہا ہے جب پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان آئندہ جائزہ مذاکرات کی تیاری جاری ہے۔
آئی ایم ایف کے موجودہ پروگرام میں مالیاتی نظم و ضبط، سرکاری اخراجات پر قابو، توانائی کے شعبے کی اصلاحات اور گردشی قرضے کے مسئلے کو اہمیت حاصل ہے۔ آئی ایم ایف کے تازہ پروگرام دستاویزات میں بھی مالیاتی ایڈجسٹمنٹ، توانائی کے شعبے کی پائیداری اور ساختی اصلاحات کو پروگرام کے اہم اہداف قرار دیا گیا ہے۔
بجلی کا گردشی قرضہ بھی بڑا چیلنج
دوسری جانب آئندہ آئی ایم ایف جائزے میں بجلی کے شعبے کا بڑھتا ہوا گردشی قرض حکومت کیلئے ایک اہم چیلنج بن گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجلی کا گردشی قرض آئی ایم ایف کی جانب سے مقرر کردہ تقریباً 1600 ارب روپے کی حد سے 130 فیصد تک زیادہ ہوچکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی توانائی قیمتوں میں اضافے، خصوصاً امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اثرات کے باعث توانائی کے شعبے کے مالی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
اس صورتحال کے باعث وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی معاشی ٹیم کو بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے کے بجائے متبادل حل تلاش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکومت آئندہ مذاکرات میں توانائی کے شعبے، خصوصاً بجلی اور گیس کے گردشی قرضے، اصلاحات اور مقررہ اہداف پر ہونے والی پیش رفت سے آئی ایم ایف کو آگاہ کرے گی۔
ایک ارب ڈالر کی اگسلی قسط متوقع
ذرائع کے مطابق جائزہ مذاکرات کامیابی سے مکمل ہونے کی صورت میں پاکستان کو موجودہ قرض پروگرام کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط ملنے کی توقع ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کیلئے تقریباً 20 کروڑ ڈالر کی اضافی رقم بھی دستیاب ہوسکتی ہے۔
آئی ایم ایف کے پروگرام شیڈول کے مطابق ستمبر 2026 میں پاکستان کے پروگرام کا اگلا جائزہ ہونا طے ہے، جس میں جون 2026 تک کے مقداری اہداف اور مسلسل پروگرام شرائط کا جائزہ لیا جانا ہے۔
یوں وفاقی حکومت اس وقت ایک طرف سرکاری اخراجات کم کرنے کیلئے رائٹ سائزنگ اور خالی آسامیوں کے خاتمے کا عمل آگے بڑھا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کو قابو کرنے اور آئی ایم ایف کے آئندہ جائزے میں مطلوبہ پیش رفت دکھانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔
حکومت کیلئے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ اخراجات میں کمی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ساتھ سرکاری خدمات کی فراہمی متاثر نہ ہو، جبکہ توانائی کے شعبے کا مالی بوجھ بھی کم کیا جاسکے۔