سابق وفاقی وزیر غلام مرتضیٰ جتوئی نے بھی سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کردی، جس کے بعد صوبے میں انتظامی یونٹس کے معاملے پر جاری سیاسی بحث مزید اہم ہوگئی ہے
غلام مرتضیٰ جتوئی کا کہنا ہے کہ بڑے صوبوں میں بہتر حکمرانی اور عوام کو سہولیات کی مؤثر فراہمی کے لیے انتظامی ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے حکومتی اداروں تک عوام کی رسائی بہتر بنانے اور مقامی مسائل کے فوری حل میں مدد مل سکتی ہے۔
سندھ میں نئی بحث
سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ گزشتہ دنوں سیاسی طور پر خاصا نمایاں ہوا ہے، سندھ اسمبلی میں بھی نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی، جہاں مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔
ایک جانب پیپلز پارٹی کی قیادت سندھ کی تقسیم کی سخت مخالفت کررہی ہے، جبکہ دوسری جانب بعض سیاسی جماعتیں واضح کرچکی ہیں کہ وہ صوبے کی تقسیم کے بجائے انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس کے قیام کی بات کررہی ہیں۔
صوبے کی تقسیم نہیں
نئے انتظامی یونٹس کے حامیوں کا بنیادی مؤقف ہے کہ انتظامی یونٹ اور نیا صوبہ ایک ہی چیز نہیں۔ ان کے مطابق نئے یونٹس بنانے کا مقصد کسی صوبے کی جغرافیائی یا سیاسی تقسیم نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی آبادی، وسیع رقبے اور عوامی ضروریات کے مطابق انتظامی نظام کو بہتر بنانا ہے،یہی مؤقف سندھ میں جاری بحث کا اہم حصہ بن چکا ہے، جہاں نئے انتظامی یونٹس کے حامی اسے انتظامی ضرورت قرار دے رہے ہیں۔
حامیوں کے مطابق سندھ کے مختلف علاقوں میں عوام کو سرکاری دفاتر، صحت، تعلیم، پولیس اور دیگر بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں، انتظامی یونٹس میں اضافے سے مقامی سطح پر سرکاری اداروں کی موجودگی بڑھائی جاسکتی ہے اور شہریوں کے مسائل ان کے علاقوں میں ہی حل کیے جاسکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ انتظامی نظام جتنا عوام کے قریب ہوگا، اتنا ہی سرکاری مشینری کے لیے شہریوں کی ضروریات کو سمجھنا اور ان پر فوری کارروائی کرنا آسان ہوگا۔
سیاسی اختلاف برقرار
دوسری جانب پیپلز پارٹی اور سندھ کی بعض دیگر سیاسی قوتیں نئے انتظامی یونٹس کے نام پر سندھ کی تقسیم کے خدشات کا اظہار کررہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ کی وحدت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا اور صوبے کو تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کی مزاحمت کی جائے گی۔
تاہم نئے انتظامی یونٹس کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ انتظامی اختیارات کی ازسرنو تقسیم کو صوبے کی تقسیم سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ انتظامی اصلاحات کا مقصد عوام کو بہتر حکمرانی اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
بحث مزید تیز
غلام مرتضیٰ جتوئی کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس کی حمایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سندھ میں اس معاملے پر سیاسی اور عوامی بحث جاری ہے، ان کی حمایت سے یہ معاملہ مزید نمایاں ہوگیا ہے اور امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں سندھ کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی، نئے یونٹس کے قیام اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر سیاسی جماعتوں کے درمیان بحث مزید شدت اختیار کرے گی۔
سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اصل توجہ صوبے کی تقسیم کے بجائے عوامی مسائل کے حل، بہتر حکمرانی، انتظامی سہولیات اور اختیارات کی مؤثر تقسیم پر ہونی چاہیے۔