وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے حوالے سے اہم وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر گاڑی یا موٹر سائیکل شہری کے اپنے نام پر رجسٹرڈ نہ بھی ہو تب بھی وہ حکومتی سبسڈی حاصل کرسکتا ہے۔
وفاقی وزراء عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ اور علی پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے طریقہ کار، اہلیت اور دیگر خصوصیات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
پٹرول مہنگا کیوں ہوا؟
شزہ فاطمہ نے کہا کہ عالمی صورتحال اور خطے میں جاری جنگ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات عام شہریوں خصوصاً کم آمدن والے طبقے پر پڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات سے غریب اور متوسط طبقے کو بچانے کے لیے خصوصی فیول ریلیف پروگرام شروع کیا ہے۔
100 روپے فی لیٹر سبسڈی
وفاقی وزیر کے مطابق وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے تحت موٹر سائیکل سواروں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کی رعایت فراہم کی جائے گی،اس اقدام کا مقصد پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث شہریوں پر پڑنے والے اضافی مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔
موٹر سائیکل والوں کو کتنا ریلیف؟
حکومت کی جانب سے موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہفتے میں ایک بار 5 لیٹر پیٹرول پر سبسڈی مقرر کی گئی ہے، جبکہ ایک ماہ کے دوران زیادہ سے زیادہ 20 لیٹر پٹرول پر یہ سہولت حاصل کی جاسکے گی،اس حساب سے موٹر سائیکل سوار کو ماہانہ زیادہ سے زیادہ 2 ہزار روپے تک پیٹرول سبسڈی مل سکے گی۔
800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے بھی فی لیٹر 100 روپے کی رعایت رکھی گئی ہےایسی گاڑیوں کے مالکان ہر 10 دن بعد 10 لیٹر پٹرول پر سبسڈی حاصل کرسکیں گے، جبکہ ماہانہ زیادہ سے زیادہ 30 لیٹر پٹرول اس ریلیف پروگرام میں شامل ہوگا،اس طرح 800 سی سی گاڑی کے لیے ماہانہ زیادہ سے زیادہ **3 ہزار روپے** تک پٹرول سبسڈی دستیاب ہوگی۔
گاڑی کتنی پرانی ہو سکتی ہے؟
وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی عمر سے متعلق بھی شرط رکھی گئی ہے،پروگرام کے تحت 15 سال تک پرانی موٹر سائیکل جبکہ 20 سال تک پرانی 800 سی سی گاڑی اہل قرار دی گئی ہے۔
رجسٹریشن کا آسان طریقہ
شزہ فاطمہ کے مطابق شہری اپنے موبائل فون سے ایس ایم ایس کے ذریعے وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم میں رجسٹریشن کراسکتے ہیں رجسٹریشن کے لیے شہریوں کو 9771 پر پیغام بھیجنا ہوگا،رجسٹریشن کے عمل میں گاڑی یا موٹر سائیکل سے متعلق مطلوبہ معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔
کون سی معلومات دینا ہوں گی؟
اسکیم میں رجسٹریشن کے لیے شہریوں کو اپنا نام، شناختی کارڈ نمبر، گاڑی یا موٹر سائیکل کا رجسٹریشن نمبر، صوبے کے نام کا پہلا حرف اور رجسٹریشن کی تاریخ فراہم کرنا ہوگی،مثلاً پنجاب کے لیے صوبے کے نام کا پہلا حرف P استعمال کیا جائے گا۔
گاڑی اپنے نام ہونا ضروری نہیں
وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے حوالے سے سب سے اہم وضاحت یہ سامنے آئی ہے کہ گاڑی یا موٹر سائیکل کا شہری کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہونا لازمی نہیں،شزہ فاطمہ نے واضح کیا کہ اگر گاڑی یا بائیک کسی دوسرے شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہے تب بھی شہری مقررہ شرائط پوری ہونے کی صورت میں سبسڈی حاصل کرسکتا ہے۔
البتہ جس موبائل نمبر سے رجسٹریشن کے لیے ایس ایم ایس بھیجا جائے گا، وہ سم شہری کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے اور شناختی کارڈ بھی اسی شہری کا ہونا چاہیے۔
ٹوکن کوڈ کیسے ملے گا؟
رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد شہری کو TOK لکھ کر 9771 پر ایس ایم ایس بھیجنا ہوگا، جس کے جواب میں ٹوکن کوڈ حاصل ہوگاحکومت کے مطابق پٹرول حاصل کرتے وقت متعلقہ ٹوکن کوڈ کی تصدیق کی جائے گی، اس لیے کسی دوسرے شخص کے ٹوکن نمبر پر پٹرول فراہم نہیں کیا جاسکے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کا مقصد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کم کرنا اور موٹر سائیکل سواروں، کم آمدن والے شہریوں اور چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کو براہ راست مالی ریلیف فراہم کرنا ہے۔