خیبرپختونخوا میں پلیسر گولڈ کی غیر قانونی کان کنی اور کرپشن سے متعلق قومی احتساب بیورو پختونخوا کی انکوائری بند کردی گئی ہے،نیب خیبرپختونخوا نے انکوائری بند کرنے کے فیصلے سے چیف سیکر ٹری خیبرپختونخوا کو باضابطہ طور پر آگاہ کرتے ہوئے صوبائی کابینہ کی سفارشات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
13 اگست 2026 کو نیب خیبرپختونخوا پشاور کی جانب سے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کے نام جاری کیے گئے خط میں انکوائری کی بندش سے متعلق تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔
خط کے مطابق معاملے کی انکوائری محکمہ معدنیات و معدنی ترقی خیبرپختونخوا کے افسران و اہلکاروں سمیت دیگر افراد کے خلاف قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے تحت کی گئی تھی۔
کیا الزام تھا؟
دستاویز کے مطابق انکوائری میں بنیادی الزام کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کے ذریعے پلیسر گولڈ کی غیر قانونی کان کنی سے متعلق تھا،نیب خیبرپختونخوا کی جانب سے کی جانے والی انکوائری کے بعد اس حوالے سے رپورٹ تیار کی گئی، جس میں معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
انکوائری بند کرنے کا فیصلہ
نیب کے خط میں واضح کیا گیا ہے کہ انکوائری رپورٹ کے نتائج اور نیب خیبرپختونخوا کی سفارشات کی بنیاد پر چیئرمین نیب نے مذکورہ انکوائری کو بند کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
خط کے مطابق نیب کے اختیارات کے تحت انکوائری کو بند کرنے کے ساتھ معاملہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو بھیجا گیا ہے تاکہ صوبائی کابینہ کی سفارشات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جاسکے۔
مکمل بریت نہیں
دستاویز کا ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ انکوائری بند ہونے کا دائرہ صرف ان الزامات تک محدود ہے جن کا ذکر مذکورہ انکوائری میں کیا گیا تھا،نیب نے واضح کیا ہے کہ انکوائری کی بندش کا مطلب کسی دوسرے ایسے کیس پر اثر انداز ہونا نہیں ہوگا جو پہلے ہی زیرِ تفتیش ہواسی طرح آرڈیننس کے تحت کسی نئے معاملے پر نئی کارروائی شروع کرنے میں بھی یہ فیصلہ رکاوٹ نہیں بنے گا۔
صوبائی کابینہ کی سفارشات
نیب کی جانب سے معاملہ چیف سیکرٹری کو بھیجے جانے کے بعد اب صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہوگی کہ انکوائری رپورٹ اور نیب کی سفارشات کی روشنی میں صوبائی کابینہ کی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنائے،دستاویز کے مطابق نیب نے انکوائری کو اپنے اختتام پر بند کیا ہے، تاہم متعلقہ سرکاری اداروں کو سفارشات پر عملدرآمد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
معدنی وسائل کا معاملہ
خیبرپختونخوا میں سونے سمیت قیمتی معدنی وسائل کی تلاش اور کان کنی ایک اہم معاملہ ہے، پلیسر گولڈ کی غیر قانونی کان کنی سے متعلق شکایات میں سرکاری اداروں کے افسران اور دیگر افراد پر الزامات سامنے آئے تھے، جس کے بعد نیب خیبرپختونخوا نے معاملے کی انکوائری کی۔
اب نیب کی جانب سے انکوائری بند کیے جانے کے بعد اصل توجہ اس بات پر ہوگی کہ صوبائی کابینہ کی سفارشات پر کس طرح عملدرآمد کیا جاتا ہے اور معدنی وسائل کی قانونی و شفاف کان کنی کے لیے حکومت کیا اقدامات اٹھاتی ہے۔
یوں گولڈ کی غیر قانونی کان کنی اور کرپشن سے متعلق نیب خیبرپختونخوا کی انکوائری باضابطہ طور پر بند کردی گئی ہے، جبکہ معاملہ صوبائی کابینہ کی سفارشات پر عملدرآمد کے لیے چیف سیکر ٹری خیبرپختونخوا کو بھجوا دیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت اور بیوروکریسی کا قومی احتساب بیورو خیبرپختونخوا کے بعض افسران کے ساتھ جاری دوستانہ میچ کا پہلا سرکاری اور حتمی نتیجہ
غیر قانونی سونے کی تلاش کی انکوائری بند کرا دی گئی https://t.co/XmLoRlT0Bg pic.twitter.com/1dlOSJl7C5— Irfan Khan (@irfijournalist) September 15, 2026


