ایمان مزاری نے ریاست کیخلاف بات کی، جس پر ادارے کو اس کے خلاف ایف آئی آر کاٹنی پڑ گئی، امیر معظم

ایمان مزاری نے ریاست کیخلاف بات کی، جس پر ادارے کو اس کے خلاف ایف آئی آر کاٹنی پڑ گئی، امیر معظم

سینئر قانون دان امیر معظم نے آزاد ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایمان مزاری نے ریاست کیخلاف بات کی، جس پر ادارے کو اس کے خلاف ایف آئی آر کاٹنی پڑ گئی، بنیادی حقوق کی آڑ میں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ریاست کیخلاف بات کرنا قانون کی صریحا خلاف ورزی ہے، آئین میں کچھ حدود و قیود بھی  ہیں۔ 

امیر معظم نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک فیصلہ صادر فرما دیتی ہے اور کہہ دیتی ہے کہ جو ججز افتخار چوہدری صاحب کی نسبت سے ہٹا دیے گئے یا انہیں حلف نہیں دیا گیا، وہ دوبارہ ججز نہیں بن سکتے۔ ریویو فائل ہوا اور ریویو میں بھی سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ ججز گردانے جا سکتے، لیکن تحریک چلائی گئی اور ایکٹوازم کے نتیجے میں افتخار چوہدری صاحب اپنے منصب پر بحال ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایکٹوازم تھا اور ایکٹوازم نے اپنے نتائج برپا کرنے ہی تھے۔ اس کے بعد دیکھا جائے تو وہ ججز تعینات ہوئے اور ان کا چناؤ کیا گیا جو مخصوص چیمبرز سے تعلق رکھتے تھے اور اسی موومنٹ میں ان کی کارگزاری انہیں اعلیٰ منصبوں پر بٹھانے کی وجہ بنی۔

امیر معظم نے کہا کہ یہ کیا عجیب اتفاق ہے کہ ایک ہی چیمبر جس میں موجودہ محترم چیف جسٹس آف پاکستان اور اطہر من اللہ محترم ایک ہی چیمبر کا حصہ تھے۔ جسٹس منصور صاحب نے بھی مشترکہ طور پر ایک چیمبر کو ایوالو کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سوچ اور فکر کے لحاظ سے دیکھا جائے کہ کون کس دھارے پر چل نکلا۔

امیر معظم نے ایمان کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایمان نے بولڈ بات کی، ٹکا کے بات کی اور سوچا کہ وہ جو بات کر رہی ہیں وہ بنیادی حقوق کے تحفظ کی بات ہے۔ یہ ایسی آواز تھی جس پر خود ریاستی ادارے کو ایف آئی آر کاٹنی پڑی اور مسئلہ عدالت میں لایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو اظہارِ رائے کی اجازت ہے لیکن اس کے ساتھ قید بھی ہے۔ آپ کوئی ایسی بات نہیں کریں گے جو سُوَرینٹی کو کوئسچن کرے، پبلک آرڈر کو اٹیک کرے یا اسٹیٹ ہڈ کے خلاف جائے، چاہے آپ آرٹیکل 17 کو اس کے ساتھ ملا کر پڑھ لیں۔

ان کے مطابق حساس آئینی آرٹیکلز میں ہمیشہ یہ پابندی دکھائی دے گی کہ آپ نے کوئی ایسی بات نہیں کرنی جو قانون کے خلاف ہو، پبلک آرڈر کے خلاف ہو، ہنگامہ خیزی پر منطبق ہو یا پھر مورلٹی کی نسبت سے سوال اٹھائے جا سکیں۔

امیر معظم نے مزید کہا کہ پاکستان میں وزیراعظم جب اقتدار میں آتے ہیں تو وہ انقلابی بن جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سارا نظام انہی کے گرد چلنا ہے۔ ان کے بقول یہی مقام جب عدلیہ میں ایسے ججز کے پاس آتا ہے جو پرو ایکٹیو اپروچ رکھتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ نظام ان کے کہنے پر چلے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ انقلابی بن جاتے ہیں، سچ کی بات کرتے ہیں، لیکن انہیں بات کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ انقلاب کی زبان بولنے کی ضرورت کیا ہے؟ انہوں نے تو اپنے فیصلے آئین اور قانون کے مطابق ہر ہر پہلو کو سامنے رکھ کر دینے ہوتے ہیں۔

سینئر قانون دان نے کہا کہ ججز یہ بھول جاتے ہیں کہ جوڈیشری از اے برانچ آف گورنمنٹ۔ گورنمنٹ کی ایک برانچ ہوتی ہے جوڈیشری۔ یقیناً اس کے لیے جوڈیشری کا انگ ہے، وہاں آپ نے آئین اور قانون کی تشریح کرنی ہوتی ہے، لیکن ریاست کو نگاہ میں رکھنا، پبلک کو نگاہ میں رکھنا اور اپنی زمین کی انٹیگریٹی کو نگاہ میں رکھنا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بغیر آپ پراپر طریقے سے سوچ ہی نہیں سکتے، آپ کو سوچنا بھی آئین اور قانون کے مطابق ہے۔

امیر معظم نے اطہر من اللہ صاحب کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو سٹیٹمنٹ اور ایکسپریشن انہوں نے دیا ہے، وہ فنڈامینٹل رائٹس کی نسبت سے ہاف سٹیٹمنٹ ہے اور ہاف پارٹ سے ڈیل کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اطہر من اللہ صاحب نے پبلک آرڈر کو اس کے ساتھ ملا کر نہیں پڑھا، مورلٹی کو ملا کر نہیں پڑھا اور لاء کو اس کی نسبت سے ملا کر نہیں دیکھا، بلکہ ایک ایسی سوچ دی ہے جس میں انقلاب کا پولیٹیکل انگ ہو سکتا ہے۔

امیر معظم کے مطابق جب آئین کی تشریح کرنی ہے تو تمام پہلوؤں کو ساتھ لے کر ججمنٹ دینی ہوگی، انفرادی طور پر ججمنٹ نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ ایمان کے کیس کو جس طریقے سے اٹھایا گیا یا مسنگ پرسنز کے کیسز کو جس نسبت سے اٹھایا گیا، وہاں پبلک آرڈر کی بات نہیں تھی، وہاں ہماری انٹیگریٹی آف لینڈ کی بات نہیں تھی اور ریاست کو درپیش چیلنجز کا ان اقدامات سے تذکرہ نہیں تھا۔

ان کے مطابق یہ اسیس نہیں کیا گیا کہ ہندوستان کیا کر رہا ہے، علاقے میں بلوچستان میں جو موومنٹس چل رہی ہیں، کیا اس میں فارن ایلیمنٹ شامل ہے یا نہیں، اگر ہے تو آئین اس کی تشریح کیسے کرے گا؟ آپ تو اس پر بولے ہی نہیں، تو ان چیزوں کو چھوڑ کر اور نظرانداز کر کے کیسے کوئی ججمنٹ دے سکتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ ایسی ججمنٹ کیا کنفیوژن پیدا نہیں کرے گی، کنفیوژن نہیں پیدا کرے گی تو اور کیا کرے گی؟ سو یہی کچھ ہوا۔

امیر معظم نے اطہر من اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری گزارش یہ ہے کہ آپ اگر مناظرے میں آ جائیں تو ہم یہ آپ کو یقینی طور پر کنفرنٹ کر سکیں گے۔

Related Articles