امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسے قانون پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت روس پر وسیع معاشی پابندیاں عائد جبکہ ایران سینکشنز ایکٹ میں مزید 5 سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان سے رواں ہفتے کے آغاز میں منظور ہونے والے اس قانون کے تحت ماسکو کے مالیاتی اداروں، سرکاری حکام اور توانائی کے شعبے کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس نئے بل کے ذریعے امریکی صدر کو یہ خصوصی اختیار بھی سونپ دیا گیا ہے کہ وہ روسی تیل اور قدرتی گیس کے بڑے درآمد کنندگان پر 100 فیصد تک محصولات یعنی کسٹم ڈیوٹی عائد کر سکتے ہیں، جس سے روسی تجارت کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
ایران سینکشنز ایکٹ میں توسیع اور تہران پر دباؤ
اس قانون سازی کا ایک اور اہم پہلو ایران سے متعلق پالیسی ہے۔ قرارداد کے تحت سنہ 1996 کے ’ایران سینکشنز ایکٹ‘ میں مزید 5 سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔
اس فیصلے کے بعد تہران حکومت کے خلاف موجودہ امریکی تعزیراتی اقدامات برقرار رہیں گے اور واشنگٹن کو ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا قانونی اختیار بھی حاصل رہے گا۔
اس قانون سازی کا بنیادی پس منظر امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے رواں ہفتے کے آغاز میں دی جانے والی منظوری ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس پر دستخط کے بعد اب یہ باقاعدہ امریکی قانون بن چکا ہے۔
بل کا بنیادی مقصد روس کے توانائی کے اہم ترین ذرائع اور ایران کے معاشی شعبوں کو نکیل ڈالنا ہے، تاکہ دونوں ممالک کے مالیاتی وسائل اور عالمی تجارت تک رسائی کو محدود کیا جا سکے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اس بل پر دستخط کرنا واشنگٹن کی جانب سے ماسکو اور تہران پر معاشی و سفارتی دباؤ کو شدید ترین سطح پر لے جانے کی واضح علامت ہے۔
روسی خام تیل اور قدرتی گیس کے عالمی خریداروں پر 100 فیصد تک کا بھاری محصول عائد کرنے کا اختیار ایک ایسا ہتھیار ہے جو نہ صرف روس کی معیشت بلکہ عالمی توانائی کے بازاروں میں بھی بڑا بگاڑ پیدا کر سکتا ہے۔
دوسری جانب 1996 کے ایران سینکشنز ایکٹ کی 5 سالہ توسیع سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ تہران کے معاملے میں کسی بھی طرح کی معاشی یا سفارتی نرمی دکھانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔