کائنات میں ایک ایسا پراسرار سیارہ بھی موجود ہے جو اپنی غیر معمولی تاریکی کی وجہ سے سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ زمین سے تقریباً 750 نوری سال دور واقع اس سیارے کو کائنات کی تاریک ترین دنیا میں شمار کیا جاتا ہے۔
سائنسی اصطلاح میں اس سیارے کا نام ٹریس ٹو بی ہے، جو ڈریگو نامی جھرمٹ کی سمت واقع ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ٹریس ٹو بی اپنے قریب موجود ستارے سے آنے والی روشنی کا 99 فیصد سے زیادہ حصہ جذب کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سیارہ کوئلے یا انتہائی سیاہ سیاہی کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سیارہ جسامت میں ہمارے نظام شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کے تقریباً برابر ہے۔
ٹریس ٹو بی اپنے ستارے کے انتہائی قریب گردش کرتا ہے، جس کے باعث اس کی سطح کا درجہ حرارت ایک ہزار ڈگری سیلسیس سے بھی زیادہ رہتا ہے۔شدید گرمی کی وجہ سے یہ سیارہ مکمل طور پر تاریک ہونے کے باوجود اپنے اندر سے مدھم سرخی مائل روشنی خارج کرتا ہے۔ اس کا منظر کسی سلگتے ہوئے کوئلے جیسا محسوس ہوتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق اس سیارے کی فضا میں ایسے بادل موجود نہیں جو روشنی کو نمایاں طور پر منعکس کرسکیں۔ اس کے ماحول میں سوڈیم، پوٹاشیم اور ٹائٹینیئم آکسائیڈ سمیت مختلف کیمیائی اجزا موجود ہیں جو روشنی کے جذب ہونے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
اسی غیر معمولی خصوصیت کی وجہ سے ٹریس ٹو بی کو کائنات کی انتہائی تاریک دنیا کے طور پر جانا جاتا ہے، جو سائنسدانوں کے لیے اب بھی ایک دلچسپ فلکیاتی معمّا ہے۔