پی ٹی آئی کو اسلام آباد کا امن تباہ کرنے کی اجازت ہرگز نہیں، طاقت سے روکیں گے، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

پی ٹی آئی کو اسلام آباد کا امن تباہ کرنے کی اجازت ہرگز نہیں، طاقت سے روکیں گے، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

وفاقی حکومت نے ‘پی ٹی آئی’ کو دارالحکومت میں احتجاج سے سختی سے روکنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف ناقابلِ فراموش کارروائی کی جائے گی۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے ایک نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت اسلام آباد میں کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت کے امن کو سبوتاژ کرنے والوں کو ریاست پوری طاقت سے روکے گی۔

وفاقی وزیر نے ‘پی ٹی آئی’ کی قیادت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آج تک اس جماعت کو کبھی پرامن احتجاج کرتے نہیں دیکھا۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی احتجاج کے باعث ٹریفک جام میں دم توڑنے والی بچی کے والد نے خود کشی کرلی

انہوں نے سخت لہجے میں خبردار کیا کہ تحریکِ انصاف کے رہنما ہوش کے ناخن لیں، بصورتِ دیگر ان کے ساتھ وہ قانونی سلوک کیا جائے گا جسے وہ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

خواتین رہنماؤں کی گرفتاری کا دفاع

وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے عمران خان کی بہنوں کی حالیہ گرفتاری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ اقدام کسی سیاسی انتقام کا حصہ نہیں تھا۔

ان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ وہ دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں، جس کی بنیاد پر انہیں حراست میں لیا گیا۔

قیادت کا بحران اور مذاکرات سے انکار

عطا تارڑ نے ‘پی ٹی آئی’ کے اندرونی بحران کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اس جماعت میں بات چیت کے لیے کوئی بااختیار شخص موجود ہی نہیں ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘پی ٹی آئی’ کے چیئرمین بیرسٹر گوہر بالکل فارغ ہیں اور پارٹی کے اندر ان کی کوئی بات نہیں سنتا۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں 2 یا 3 افراد مذاکرات کی بات کرتے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ‘پی ٹی آئی’ والوں کی زبان پر کوئی اعتبار نہیں کیا جا سکتا، اس لیے ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا نہ تو کوئی جواز بنتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی فائدہ ہے۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ‘پی ٹی آئی’ کی جانب سے اسلام آباد میں بڑے احتجاج اور دھرنوں کی کالز دی جا رہی ہیں۔

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی احتجاج : سوشل میڈیا پر ریاست کیخلاف پراپیگنڈا کرنیوالے افرادکی لسٹ آزاد ڈیجیٹل نے حاصل کرلی

دوسری جانب وفاقی حکومت نے دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے اور کنٹینرز لگا کر راستوں کو سیل کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں ‘پی ٹی آئی’ کے متعدد کارکنوں اور اہم رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامہ آرائی کو روکا جا سکے۔

واضح رہے کہ حکومتی وزرا کے یہ بیانات ریاست کی جانب سے ‘زیرو ٹالرنس’ پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ عطا تارڑ کی جانب سے بیرسٹر گوہر کو ہدف بنانا دراصل ‘پی ٹی آئی’ کی صفوں میں موجود داخلی اختلافات کو نمایاں کرنے اور قیادت کے فقدان کا تاثر دینے کی ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمتِ عملی ہے۔

مذاکرات کے دروازے بند کرنے کا واضح اعلان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حکومت اپوزیشن کو کسی قسم کا سیاسی ریلیف دینے کے موڈ میں نہیں ہے۔

تاہم سیاست میں ڈائیلاگ کا راستہ بند ہونے سے عموماً محاذ آرائی اور سڑکوں پر تصادم کے خطرات بڑھ جاتے ہیں، جو ملکی معیشت اور سیاسی استحکام کے لیے کسی طور پر سود مند نہیں ہوتا۔

Related Articles