سونا مزید مہنگا ہوگا یا قیمت گرنے والی ہے؟ عالمی مارکیٹ سے بڑی خبر آ گئی

سونا مزید مہنگا ہوگا یا قیمت گرنے والی ہے؟ عالمی مارکیٹ سے بڑی خبر آ گئی

پاکستان میں سونے کی قیمت گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مجموعی طور پر اضافے کے بعد اب اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 4 ہزار 300 ڈالر فی اونس سے اوپر برقرار ہے، تاہم امریکی شرح سود میں مزید اضافے کے خدشات نے سونے کی قیمت کو مزید اوپر جانے سے روک دیا ہے۔

22 ستمبر کو عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ تقریباً 4,344.29 ڈالر فی اونس پر رہا جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز تقریباً 4,381.80 ڈالر فی اونس پر مستحکم رہے۔ رائٹرز کے مطابق سرمایہ کار اب امریکی فیڈرل ریزرو حکام کے بیانات پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ اکتوبر میں ممکنہ مزید شرح سود میں اضافے کے اشارے مل سکیں۔

پاکستان میں آج سونے کا ریٹ

22 ستمبر کے دستیاب مقامی مارکیٹ ریٹس کے مطابق پاکستان میں 24 قیراط سونا تقریباً 4 لاکھ 53 ہزار 300 روپے فی تولہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 22 قیراط سونے کا ریٹ تقریباً 4 لاکھ 15 ہزار 525 روپے فی تولہ ہے۔ 24 قیراط سونے کے 10 گرام کی قیمت تقریباً 3 لاکھ 88 ہزار 632 روپے بنتی ہے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ مقامی صرافہ مارکیٹ میں دن کے دوران عالمی قیمت، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور مقامی طلب و رسد کے باعث نرخ میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔

گزشتہ ایک ہفتے میں سونے کی قیمت کہاں سے کہاں پہنچی؟

دستیاب روزانہ کے مقامی نرخوں کے مطابق 15 ستمبر کو 24 قیراط سونا تقریباً 4 لاکھ 46 ہزار 200 روپے فی تولہ تھا، جو 22 ستمبر کو بڑھ کر تقریباً 4 لاکھ 53 ہزار 300 روپے تک پہنچ گیا۔

یہ بھی پڑھیں:2027 دنیا کے لیے کیسا ہوگا؟ حیران کن پیشگوئی سامنے آگئی

یعنی ایک ہفتے میں فی تولہ تقریباً 7 ہزار 100 روپے کا اضافہ ہوا، جو تقریباً 1.6 فیصد بنتا ہے۔

گزشتہ ہفتے کے دوران قیمت میں مسلسل ایک سمت میں حرکت نہیں ہوئی بلکہ کئی مرتبہ تیزی اور کمی دیکھی گئی۔ 16 ستمبر کے بعد عالمی مارکیٹ میں شرح سود کے فیصلے، ڈالر کی قدر اور تیل کی قیمتوں نے سونے کی سمت پر نمایاں اثر ڈالا۔

17 ستمبر کو مقامی سونا تقریباً 4 لاکھ 51 ہزار 500 روپے، 18 ستمبر کو 4 لاکھ 53 ہزار 300 روپے جبکہ 19 اور 20 ستمبر کے دوران یہ تقریباً 4 لاکھ 54 ہزار 700 روپے تک گیا۔ بعد ازاں 21 اور 22 ستمبر کو قیمت تقریباً 4 لاکھ 53 ہزار 300 روپے کے قریب رہی۔

عالمی مارکیٹ میں اصل صورتحال کیا ہے؟

عالمی مارکیٹ میں سونے کو اس وقت دو مختلف قوتوں کا سامنا ہے۔ ایک طرف مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور جغرافیائی سیاسی خطرات سونے کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سہارا دے رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف امریکا میں بلند شرح سود اور مزید اضافے کے امکانات سونے پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق پیر کو سونے کی قیمت میں کمی آئی اور اسپاٹ گولڈ تقریباً 4,349.94 ڈالر فی اونس تک آگیا تھا۔ مضبوط ڈالر اور مزید شرح سود میں اضافے کی توقعات نے سونے کی کشش کم کی۔

شرح سود بڑھی تو سونے پر کیا اثر ہوگا؟

امریکی فیڈرل ریزرو نے گزشتہ ہفتے شرح سود میں 0.25 فیصد اضافہ کیا اور مزید اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا۔ موجودہ صورتحال میں مارکیٹ کی توجہ اس بات پر ہے کہ اکتوبر میں فیڈ کا اگلا قدم کیا ہوگا۔

اگر شرح سود مزید بڑھتی ہے یا فیڈ کی جانب سے سخت مالیاتی پالیسی کے اشارے برقرار رہتے ہیں تو ڈالر اور امریکی بانڈز کی پیداوار میں اضافہ سونے کے لیے دباؤ کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ سونا خود کوئی باقاعدہ منافع یا سود فراہم نہیں کرتا۔

تیل کی قیمت بھی سونے کے لیے اہم بن گئی

ماہرین کی نظر اب تیل کی قیمتوں پر بھی ہے۔ اگر خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو عالمی مہنگائی کے خدشات بڑھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکی مرکزی بینک پر شرح سود مزید سخت رکھنے یا بڑھانے کا دباؤ پیدا ہوسکتا ہے۔

پیپر اسٹون کے سربراہ تحقیق کرس ویسٹن کے مطابق تیل کی قیمت میں دوبارہ اضافہ مہنگائی کے خدشات کو بڑھا سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں شرح سود میں اضافے کی توقعات مضبوط ہوسکتی ہیں، جو سونے کی قیمت کے لیے منفی عنصر ہے۔

پھر سونا دوبارہ اوپر جاسکتا ہے؟

یہ امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، مرکزی بینکوں کی خریداری، مہنگائی کے خدشات اور عالمی مالیاتی غیر یقینی صورتحال سونے کو سپورٹ فراہم کرسکتی ہے۔

دوسری جانب اگر امریکی شرح سود میں مزید اضافہ ہوتا ہے، ڈالر مضبوط رہتا ہے اور امریکی بانڈز کی پیداوار بلند ہوتی ہے تو سونے پر مزید دباؤ آسکتا ہے۔

اس لیے قلیل مدت میں سونے کے حوالے سے ایک طرف مسلسل تیزی یا مسلسل کمی کے بجائے اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان زیادہ نمایاں ہے۔ 22 ستمبر کو بھی عالمی قیمت 4,300 ڈالر سے اوپر رہی، لیکن مارکیٹ میں واضح بریک آؤٹ نہیں دیکھا گیا۔

پاکستانی خریداروں کے لیے کیا مطلب ہے؟

پاکستان میں سونے کی قیمت صرف عالمی نرخ سے طے نہیں ہوتی بلکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس لیے عالمی مارکیٹ میں معمولی کمی کے باوجود اگر روپیہ کمزور ہو تو مقامی سونا اتنا سستا نہیں ہوتا۔

موجودہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ ایک ہفتے میں مقامی 24 قیراط سونا تقریباً 7 ہزار روپے فی تولہ مہنگا ہوا ہے، لیکن حالیہ دو تین سیشنز میں قیمت میں استحکام اور اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

مجموعی صورتحال یہ ہے کہ سونا اس وقت ایک اہم موڑ پر ہے: عالمی قیمت 4,300 ڈالر سے اوپر ہے، پاکستان میں فی تولہ قیمت 4 لاکھ 53 ہزار روپے سے زائد ہے، جبکہ آئندہ سمت کا بڑا فیصلہ امریکی شرح سود، ڈالر، تیل کی قیمت اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے ہوسکتا ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles