حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان جاری مذاکرات میں بڑا ڈیڈلاک پیدا ہوگیا ہے۔
سینئر صحافی غریدہ فاروقی نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی اور اپوزیشن رہنماؤں میں تقسیم پیدا ہوگئی ہے۔
ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور صوبائی حکومت کے اندر بھی اختلافات سامنے آگئے ہیں۔
غریدہ فاروقی کے مطابق اصل اختلاف اس معاملے پر پیدا ہوا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف وفاق سے کس حد تک تعاون کرے گی۔
ان کے مطابق وفاق کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے لیے بھرپور عملی اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے۔
غریدہ فاروقی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کے دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور وفاق کے ساتھ تعاون پر اتفاق نہ ہونے کے باعث معاہدہ سامنے نہیں آسکا۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں پہلے بھی خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال اہم موضوع رہی ہے۔
غریدہ فاروقی نے اس معاملے کو مذاکراتی تعطل کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔
تاہم ان کے دعوے کے تمام پہلوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے پی ٹی آئی سے لانگ مارچ ختم کرنے اور آئندہ اسلام آباد کی جانب مارچ نہ کرنے کی یقین دہانی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان تک رسائی کا مطالبہ بھی مذاکرات میں سامنے آیا تھا۔
غریدہ فاروقی کے مطابق مذاکرات میں خیبر پختونخوا حکومت کی دہشت گردی سے نمٹنے کی صلاحیت اور وفاق کے ساتھ تعاون کا معاملہ اہم اختلاف بن چکا ہے۔
ان کے مطابق اسی وجہ سے مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔
اس صورتحال میں مذاکرات کا مستقبل بھی غیر یقینی دکھائی دے رہا ہے۔
فریقین کے درمیان اختلافات دور کرنے کے لیے مزید رابطوں کی ضرورت ہوگی۔
مذاکرات کے حتمی نتیجے اور لانگ مارچ کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل فریقین کے فیصلوں سے واضح ہوگا۔