دہشت گردی کے معاملے پرپی ٹی آئی کی ہٹ دھرمی برقرار، حکومت اپوزیشن مذاکرت ناکام

دہشت گردی کے معاملے پرپی ٹی آئی کی ہٹ دھرمی برقرار، حکومت اپوزیشن مذاکرت ناکام

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان جاری مذاکرات دہشت گردی کے معاملے پر ناکام ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے دہشت گردی سے متعلق معاملات پر مؤقف میں لچک نہ دکھانے کے باعث مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوسکی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی پر حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بنیادی اختلاف برقرار رہا۔ تحریک انصاف کی جانب سے اس معاملے پر اپنے مؤقف میں تبدیلی نہ لانے کے باعث مذاکراتی عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔

 یہ بھی پڑھیں :انتشار، بدامنی، شر پسندی سہیل آفریدی کا وطیرہ بن گیا، حکومتی اور پی ٹی آئی وفد کے مذاکرات کے دوران ہی وزیراعلیٰ کے پی کا احتجاجی لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان

ذرائع کے مطابق دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں ضروری انتظامی اقدامات اور انسداد دہشت گردی کے لیے عملی تعاون مذاکرات کا اہم ترین معاملہ تھا۔ حکومت کی جانب سے اس حوالے سے واضح اور مؤثر اقدامات پر زور دیا گیا۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف نے دہشت گردی سے متعلق معاملات پر ہٹ دھرمی نہیں چھوڑی۔ اسی وجہ سے فریقین کے درمیان اتفاق رائے پیدا نہ ہوسکا اور مذاکرات ناکامی سے دوچار ہوگئے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی پر اتفاق کے بغیر مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانا ممکن نہیں تھا۔ حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان عملی تعاون کو ضروری قرار دیا گیا۔

 یہ بھی پڑھیں :پی ٹی آئی احتجاج سے چند روز قبل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے متعلق عدالت کا بڑا حکم

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں دیگر معاملات پر بھی بات چیت ہوئی تاہم دہشت گردی کا معاملہ بنیادی رکاوٹ بنا رہا۔ اس معاملے پر اتفاق نہ ہونے کے باعث باقی نکات پر ہونے والی پیش رفت بھی متاثر ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے معاملے پر واضح مؤقف مذاکرات کی کامیابی کے لیے ناگزیر تھا۔ تحریک انصاف کی جانب سے اس حوالے سے مطلوبہ پیش رفت نہ ہونے کے باعث مذاکراتی عمل آگے نہ بڑھ سکا۔

مذاکرات کی ناکامی کے بعد آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر بھی صورتحال اہم ہوگئی ہے۔ لانگ مارچ کے اعلان اور حکومت کے ساتھ مذاکرات میں تعطل کے بعد آنے والے دنوں میں سیاسی صورتحال مزید واضح ہوگی۔

editor

Related Articles