انسداد دہشت گردی پر پی ٹی آئی کا منافقانہ کرداربے نقاب ، مذاکرات میں ڈیڈ لاک براقرار

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مابین جاری رابطوں اور مذاکراتی عمل میں ایک بڑا سنسنی خیز موڑ سامنے آ گیا ہے 

 جہاں انسداد دہشت گردی کے انتہائی حساس اور قومی اہمیت کے حامل معاملے پر شدید ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان اصل تنازع اور تعطل دیگر مسائل کے بجائے انسدادِ دہشت گردی کی قومی حکمتِ عملی پر پی ٹی آئی کے غیر سنجیدہ اور متنازع رویے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق تحریک انصاف دہشت گردی سے شدّت سے متاثرہ علاقوں میں ضروری انتظامی، سیکیورٹی اور عملی اقدامات اٹھانے سے صاف پیچھے ہٹ رہی ہے۔ ریاست اور حکومت کی جانب سے ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے جن انتظامی امور پر پیش رفت کا مطالبات کیا جا رہا تھا، پی ٹی آئی نے ان پر تعاون کرنے کے بجائے راہِ فرار اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔

خبر رساں ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ تحریک انصاف نہ صرف دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حکومتی اور قومی حکمتِ عملی کا حصہ بننے سے گریزاں ہے، بلکہ وہ انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے حکومتی موقف کو ماننے سے بھی انکاری دکھائی دیتی ہے۔

ذرائع نے اس بات کا واضح عندیہ دیا ہے کہ اگر پی ٹی آئی نے دہشت گردی جیسے سنگین اور قومی سلامتی سے جڑے مسئلے پر اپنا رویہ نہ بدلا اور بات آگے نہ بڑھی، تو پھر دیگر کسی بھی سیاسی یا آئینی معاملے پر کوئی پیش رفت ممکن نہیں ہو سکے گی اور تمام تر بات چیت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔

editor

Related Articles