صرف چند لمحوں میں 8 کروڑ درخت تباہ، سائبیریا کے پراسرار دھماکے کی کہانی

صرف چند لمحوں میں 8 کروڑ درخت تباہ، سائبیریا کے پراسرار دھماکے کی کہانی

1908 میں ہونے والے پراسرار دھماکے نے ہزاروں مربع کلومیٹر جنگلات کو تباہ کردیا، سائنسدان آج بھی اس واقعے کا مطالعہ کر رہے ہیں

روس کے علاقے سائبیریا میں 30 جون 1908 کو ایک ایسا زوردار دھماکا ہوا جس نے تقریباً 2 ہزار 150 مربع کلومیٹر رقبے پر موجود جنگلات کو تباہ کردیا۔ دھماکے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تقریباً 8 کروڑ درخت زمین بوس ہوگئے، لیکن حیران کن طور پر اس مقام پر کوئی بڑا گڑھا نہیں بنا۔

یہ واقعہ آج بھی دنیا کے سب سے بڑے اور پراسرار فضائی دھماکوں میں شمار ہوتا ہے اور اسے ٹنگوسکا واقعہ کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دیہاڑی کا جھا نسہ اور بڑا دھوکا ،5 ہزار  کا لالچ دے کر دیہاڑی دار اکٹھے کیے، شام ہوتے ہی پی ٹی آئی رہنما پیسوں سمیت غائب، کارکنوں کا شدید احتجاج

آسمان پر نظر آنے والا روشن گولا

30 جون 1908 کی صبح مقامی وقت کے مطابق تقریباً 7 بج کر 14 سے 17 منٹ کے درمیان وسطی سائبیریا میں پوڈکامینایا ٹنگوسکا دریا کے قریب موجود لوگوں نے آسمان پر ایک انتہائی روشن گولا دیکھا۔

یہ روشن شے تیزی سے آسمان پر گزری اور کچھ ہی لمحوں بعد ایک زوردار دھماکا ہوا۔ دھماکے کی طاقت نے تقریباً 2 ہزار سے 2 ہزار 150 مربع کلومیٹر کے علاقے میں درختوں کو گرا دیا، جبکہ کئی درخت شدید حرارت کے باعث جھلس بھی گئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ درخت ایک مرکزی مقام سے باہر کی طرف اس طرح گرے جیسے پہیے کی تیلیاں مختلف سمتوں میں پھیل رہی ہوں۔ دھماکے کی لہریں سیکڑوں کلومیٹر دور تک محسوس کی گئیں، جبکہ اسی رات یورپ کے مختلف علاقوں میں آسمان غیر معمولی طور پر روشن دکھائی دینے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔آسمان

آخر دھماکا کس چیز سے ہوا؟

سائنسدانوں کے مطابق ٹنگوسکا واقعہ کسی عام زمینی دھماکے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ خلا سے آنے والی ایک شے زمین کی فضا میں داخل ہوئی تھی۔ زیادہ تر سائنسی شواہد اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ ایک پتھریلا سیارچہ تھا، جس کا قطر تقریباً 50 سے 100 میٹر ہوسکتا ہے۔

یہ شے انتہائی تیز رفتاری سے زمین کی فضا میں داخل ہوئی اور سطح زمین سے تقریباً 5 سے 10 کلومیٹر بلندی پر ٹکڑے ٹکڑے ہوکر پھٹ گئی۔ اسی وجہ سے زمین پر کوئی بڑا گڑھا نہیں بنا، کیونکہ دھماکا سطح زمین سے کافی بلندی پر ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب : 2 شکاری منگولین باز لاکھوں ریال میں نیلام، قیمت نے سب کو حیران کر دیا!

ہیروشیما سے بھی کہیں زیادہ طاقتور دھماکا

ٹنگوسکا دھماکے سے خارج ہونے والی توانائی کا اندازہ تقریباً 3 سے 15 میگاٹن ٹی این ٹی کے برابر لگایا گیا ہے، جبکہ بعض مطالعات میں یہ مقدار 30 میگاٹن تک بتائی گئی ہے۔

یہ توانائی ہیروشیما پر استعمال کیے گئے ایٹمی بم سے کئی گنا زیادہ تھی۔ تاہم ٹنگوسکا دھماکا فضا میں ہوا، جس کے باعث اس شے کا بڑا حصہ زمین تک پہنچنے کے بجائے اوپر ہی تباہ ہوگیا۔

سائنسدان 19 سال بعد وہاں پہنچے

سائبیریا کا یہ علاقہ انتہائی دور دراز تھا، اسی لیے اس واقعے کی باقاعدہ سائنسی تحقیقات فوری طور پر شروع نہیں ہوسکیں۔ پہلی بڑی سائنسی مہم 1927 میں روسی سائنسدان لیونیڈ کولک کی قیادت میں اس علاقے تک پہنچی۔ محققین نے تباہ شدہ جنگلات کا جائزہ لیا اور درختوں کے گرنے کے انداز کا نقشہ تیار کیا۔

بعد کی تحقیقات میں مٹی اور دیگر مواد میں ایسے انتہائی چھوٹے ذرات اور کیمیائی آثار بھی دریافت ہوئے جنہوں نے اس واقعے کے خلائی منبع کے امکان کو مزید تقویت دی۔ تاہم ماہرین میں یہ بحث بھی رہی ہے کہ یہ شے مکمل طور پر پتھریلا سیارچہ تھی یا دمدار ستارے کا کوئی ٹکڑا۔

ٹنگوسکا کا راز مکمل طور پر حل ہوا؟

وقت گزرنے کے ساتھ ٹنگوسکا واقعے کے بارے میں کئی نظریات سامنے آئے، لیکن جدید سائنسی تحقیق میں فضائی سیارچہ دھماکے کی وضاحت کو سب سے زیادہ قبولیت حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مہنگائی کا نیا طوفان،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

ماضی میں جھیل چیکو کو بھی ممکنہ ٹنگوسکا گڑھے کے طور پر پیش کیا گیا تھا، تاہم بعد کی تحقیقات نے اس دعوے کو بڑی حد تک مسترد کردیا۔ آج بھی سائنسدان مختلف شواہد، تلچھٹ اور مقناطیسی معلومات کا جائزہ لے کر اس واقعے کی مزید تفصیلات سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ٹنگوسکا واقعہ اس بات کی ایک بڑی مثال ہے کہ خلا سے آنے والی نسبتاً چھوٹی شے بھی زمین کے ماحول میں داخل ہوکر کتنی بڑی تباہی پیدا کرسکتی ہے۔ 1908 میں سائبیریا کے جنگلات پر ہونے والا یہ پراسرار دھماکا ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود سائنس اور عام لوگوں دونوں کے لیے دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے۔

editor

Related Articles