پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو ہوم سیریز کے نشریاتی حقوق کی نیلامی میں خریداروں کی عدم دلچسپی کے باعث شدید دھچکا لگا ہے۔سرکاری ٹی وی نے 600 ملین روپے کی مقررہ قیمت والے حقوق واحد بولی دہندہ کے طور پر محض 350 ملین روپے میں حاصل کر لیے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے 25 میچز پر مشتمل اس نشریاتی پیکیج کے لیے 600 ملین روپے کی ریزرو پرائس مقرر کی تھی۔
تاہم حیران کن طور پر کوئی بھی بڑا نجی چینل اس نیلامی میں سامنے نہیں آیا۔ موجودہ وقت میں 3 بڑے براڈکاسٹرز کے ذمے پی سی بی کے کروڑوں روپے کے بقایا جات واجب الادا ہیں۔
اگرچہ بورڈ نے انہیں نیلامی کے عمل میں حصہ لینے سے نہیں روکا تھا، لیکن انہوں نے خود ہی اس عمل سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ ماضی میں پاکستان کرکٹ کے زیادہ تر حقوق خریدنے والی ایک بڑی کمپنی نے بھی اس بار کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔
علاوہ ازیں، پی سی بی نے اس نیلامی میں کنسورشیم (مختلف کمپنیوں کے اشتراک) کو حصہ لینے کی اجازت نہیں دی تھی۔ بالکل اسی نوعیت کی پابندی پاکستان سپر لیگ کی نیلامی میں بھی عائد کی جا چکی ہے۔
ٹیم کی کارکردگی اور شائقین کی بیزاری
نیلامی میں مسابقت کے فقدان کی سب سے بڑی وجہ قومی کرکٹ ٹیم کی حالیہ مایوس کن کارکردگی بتائی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئرلینڈ اور سری لنکا جیسی ٹیموں کے خلاف میچز میں عوام اور کرکٹ شائقین کی کم ہوتی ہوئی دلچسپی نے بھی براڈکاسٹرز کو محتاط کر دیا ہے۔ کمرشل مارکیٹ میں ریٹنگ نہ ملنے کے خوف نے نجی کمپنیوں کو سرمایہ کاری سے دور رکھا ہے۔
مستقبل کا شیڈول اور 25 میچز کی تفصیل
پی سی بی اور سرکاری ٹی وی کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے میں مجموعی طور پر 25 میچز شامل ہیں جن میں 5 ٹیسٹ، 14 ون ڈے اور 6 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گے۔
شیڈول کے مطابق رواں ماہ پاکستان نے سری لنکا کے خلاف 3 ٹی 20 میچز کھیلنے ہیں، جس کے بعد انگلینڈ کی شمولیت کے ساتھ 7 میچز پر مشتمل سہ فریقی ون ڈے سیریز کا انعقاد ہوگا۔ اگلے ماہ سری لنکا کے خلاف 2 ٹیسٹ میچز بھی شیڈول ہیں۔
مزید برآں، جنوری 2027 میں پاکستان آئرلینڈ کے خلاف 3 ٹی 20 میچز کھیلے گا، جس کے فوراً بعد زمبابوے کی شمولیت کے ساتھ ایک اور 7 میچز پر مشتمل سہ فریقی ون ڈے سیریز کھیلی جانی ہے۔ فروری میں آئرلینڈ کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ، جبکہ فروری اور مارچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف 2 ٹیسٹ میچز کھیلے جائیں گے۔
زمبابوے کا دورہ اور سیریز کی منسوخی کے خدشات
مستقبل کے اس کرکٹ کیلنڈر پر غیر یقینی کے بادل بھی منڈلا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق زمبابوے نے تجارتی اور کمرشل وجوہات کی بنا پر پاکستان کا دورہ کرنے سے معذرت کر لی ہے، جس کے باعث یہ سہ فریقی ون ڈے سیریز منسوخ ہونے کا قوی امکان ہے۔
اسی طرح آئرلینڈ کے خلاف کھیلا جانے والا واحد ٹیسٹ میچ بھی منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، پی سی بی نے تاحال ان دونوں پیش رفتوں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔
تجارتی اور سٹریٹجک پہلو
کرکٹ کی مارکیٹنگ اور براڈکاسٹنگ کی دنیا میں 600 ملین کا ہدف رکھ کر محض 350 ملین تک محدود رہ جانا ایک واضح تجارتی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
جب کرکٹ بورڈ کی جانب سے کنسورشیم بنانے پر پابندی عائد کی جاتی ہے، تو مارکیٹ میں خریداروں کا دائرہ خود بخود محدود ہو جاتا ہے۔
دوسری جانب ٹیم کا برانڈ اس کی کارکردگی سے جڑا ہوتا ہے۔ مسلسل ہارنے والی ٹیم اور کمزور حریفوں کے خلاف سیریز پر کوئی بھی نجی ادارہ اپنا سرمایہ خطرے میں ڈالنے کو تیار نہیں ہوتا۔
یہ صورتحال بورڈ کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے کہ اگر کرکٹ کے معیار اور کمرشل پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی گئی، تو مستقبل میں پاکستان کرکٹ کی کمرشل ویلیو میں مزید گراوٹ آ سکتی ہے۔